خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد ۳ 585 خطبه جمعه ۱۹ / اکتوبر ۱۹۸۴ء وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا تم ایک بات پر اگر قائم ہو جاؤ تو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی عطا ہوگی جس کے نتیجہ میں تمہاری نیکیاں قبول کی جائیں گی اور تمہاری کمزوریوں سے درگزر کی جائے گی اور وہ یہ ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو وَلَا تَفَرَّقُوا اور آپس میں افتراق نہ کرو، ایک دوسرے سے پھٹ نہ جاؤ ایک دوسرے کے ساتھ رہو اور اپنی جمعیت کو منتشر نہ ہونے دو۔حبل اللہ کیا ہے اس کے متعلق حقیقی اور اصلی تعریف تو یہ ہے کہ حبل اللہ نبی اللہ کو کہتے ہیں کیونکہ آسمان سے کوئی رسی ظاہری طور پر ایسی نظر نہیں آتی اترتی ہوئی جس پر کوئی مومن ہاتھ ڈال لے اور پھر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے۔جو کچھ بھی آسمان سے اترتا ہے وہ ابنیاء کے دلوں پر اترتا ہے اور انبیاء ہی حبل اللہ ہوتے ہیں جن کا ہاتھ انسان مضبوطی سے تھام لے تو گویا خدا کا ہاتھ تھام لیا۔چنانچہ بیعت کا یہی فلسفہ ہے۔حبل اللہ کو تھامنے والے وہ تھے جنہوں نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہاتھ تھاما اور پھر وہ ہاتھ کاٹے تو گئے لیکن الگ نہ ہوئے۔ایسا جڑے اس ہاتھ سے کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت ان ہاتھوں کو محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھ سے الگ نہ کر دے۔چنانچہ دوسری جگہ اسی مضمون کو واضح کرتا ہوا فرما تا ہے لَا انفِصَامَ لَهَا ان کا ہاتھ ایسے کڑے پر پڑ جاتا ہے لَا انفِصَامَ لَهَا وہ کڑ انہیں ٹوٹ سکتا اور اس کڑے سے وہ ہاتھ جدا نہیں ہو سکتا کسی طرح بھی وہ علیحد گی پھر ممکن نہیں رہتی۔تو فرمایا کہ تم اگر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور محمد مصطفی ﷺ کا دامن نہ چھوڑو تو پھر تمہیں کوئی خوف نہیں۔پھر جس آن بھی تمہاری موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ موت تقویٰ کی موت ہوگی۔اب جو بظاہر ایک بہت ہی مشکل مضمون تھا اور واقعہ اسکے باریک پہلو بہت ہی مشکل ہیں اور حقیقت میں وہ حق ادا کرنے والا جس کا پہلی آیت میں ذکر ہے سوائے محمد مصطفی ﷺ کے کوئی اپنی کامل صورت میں ممکن ہی نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ آپ کی پیروی میں کوئی قدم آگے بڑھائے اور ظل