خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 53

خطبات طاہر جلد ۳ 53 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء تو ساری دنیا میں دو طرح سے ان دو گندی صفات نے مصیبت ڈالی ہوئی ہے، آفت ڈھائی ہوئی ہے دنیا کے ساتھ۔ایک براہ راست یہ بیماریاں معاشرہ کو قسم قسم کے دکھوں میں مبتلا کر رہی ہیں اور ایک اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ معاشرہ خالی ہو جاتا ہے، اس کے عفو اور اس کی ستاری سے یہ معاشرہ خالی ہو جاتا ہے اور انسان کی غلطیوں کے نتیجہ میں جو خدا رحمت کا سلوک فرماتا ہے اور اس کی تقدیر خاص اس کو مصائب سے بچاتی ہے، وہ تقدیر خاص عمل کرنا چھوڑ دیتی ہے اس لئے بہت ہی اہمیت دینی چاہئے جماعت کو ان باتوں کی طرف۔آنحضرت ﷺ نے جو غیبت سے متعلق تعلیم دی اور اس سے ملتی جلتی برائیوں سے متعلق چندا حادیث کا میں نے انتخاب کیا ہے تا کہ حضور اکرم ﷺ کے مبارک الفاظ میں ہی جماعت کو نصیحت کروں۔ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو غیبت کیا ہوتی ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔فرمایا ” تو اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرے جسے وہ پسند نہیں کرتا۔عرض کیا گیا کہ حضور کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ بات جو میں نے کہی ہے میرے بھائی میں پائی جاتی ہو۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ بات جو تو نے کہی ہے تیرے بھائی میں موجود ہے تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اگر موجود نہیں ہے تو تو نے اس پر بہتان باندھا ہے“۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحريم الغيبة ) اس لئے بہتان اور غیبت کا فرق ملحوظ رکھیں ہمیشہ۔غیبت جھوٹی بات کو نہیں کہتے۔غیبت سچی بات کو کہتے ہیں لیکن وہ سچی بات جود کھ دینے والی ہو۔اس ضمن میں بسا اوقات آپس کی بحث کے دوران آپ یہ فقرہ بھی سنیں گے دولٹر نے والوں کے درمیان کہ میں جھوٹ بولوں! میں نے جو سچی بات ہے وہ منہ پر کہہ دی ہے، میری عادت ہے میں بڑا صاف گو ہوں اور سچی بات منہ پہ مارتا ہوں۔ایسے صاف گو“ پر خدا تعالیٰ کے رسول ﷺ نے لعنت ڈالی ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اس کو پکڑلے گا اور بڑی سخت تحذیر فرمائی ہے بڑی سخت اس کے متعلق انذار کی پیشگوئی کی ہے اور نقشہ کھینچا ہے کہ ایسے صاف گو لوگوں سے قیامت کے دن کیا سلوک ہوگا۔تو سچ کا یہ مطلب یہ تصور بالکل جھوٹا اور باطل اور جاہلانہ تصور ہے کہ جو بات دکھ پہنچانے والی ہو وہ کسی کے منہ پر ماری