خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 577
خطبات طاہر جلد ۳ 577 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء ہو وہ غیر کے مقابل پر شدید ہو جایا کرتے ہیں رَّحِمَ رَبُّكَ کی تفصیل دوسری جگہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کیا کرتا ہے؟ فرماتا ہے وہ خود رحیم ہو جاتے ہیں۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (محم:۳۰) یعنی غیروں کے مقابل پر سخت ہو جاتے ہیں ان کے اندر کوئی اختلاف نہیں رہتا رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ایک دوسرے سے نہ صرف مل جاتے ہیں بلکہ بے انتہا رحم کرنے والے ہو جاتے ہیں ایک دوسرے پر ، دور ممالک میں کہیں کسی کو دکھ پہنچتا ہے تو نہ ان کا قومی رشتہ نہ ان کو کوئی اور قرب نصیب دور بیٹھے ایسے لوگوں کے لئے رونے لگتے ہیں جن کو انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہوتا۔چنانچہ مجھے یاد ہے جب 74ء کے بعد امریکہ کے نیشنل پریزیڈنٹ مظفر احمد ظفر ان کا نام ہے وہ امریکن نیشنل ہیں وہ جب 74 ء کے دو سال بعد ربوہ تشریف لائے اور جلسہ کے بعد ان سے کہا گیا کہ جلسہ کی آخری رات تھی غالبا کہ چند منٹ کے لئے آپ خطاب کریں احباب سے بتائیں کہ آپ کے کیا تاثرات ہیں تو ان کے تاثرات کیا تھے وہ تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ، سارا بدن ان کا سسکیوں سے کانپ رہا تھا اور بات منہ سے نکلتی نہیں تھی ، بڑی مشکل سے ٹکڑوں میں انہوں نے یہ کہا کہ میرے تاثرات کیا ہیں 74ء میں جو حال ہمارا ہوا تھا تم لوگوں کی خاطر تمہیں کیا پتہ کیسے سخت دن ہم نے کاٹے ہیں تمہارے لئے دکھوں میں اور آج خدا کے شکر سے میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں کہ آپ سب کا چہرہ میں دیکھ رہا ہوں کتنا اطمینان ہے، کتنا سکون ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر مصیبت سے آپ کو نجات بخشی ہے۔تو یہ ہے إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ہاں ایک وہ ہوا کرتے ہیں جن پر خدا آسمان سے رحم فرماتا ہے، جن کے ایک ہونے کا فیصلہ کر لیا کرتا ہے اور وہ کیسے ہوتے ہیں رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ (الفتح ۳۰) وہ ایک دوسرے پر بے حد رحیم و کریم ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کے گھروں کو آگیں نہیں لگایا کرتے ، ایک دوسرے کی مسجدیں نہیں جلایا کرتے ، ایک دوسرے کی عورتوں کی بے حرمتی نہیں کیا کرتے اور سروں کی چادریں نہیں اتارتے وہ تو سروں پر چادر میں ڈالنے والے لوگ ہیں۔یہ امت واحدہ ہے جو خدا کے فضل سے بنا کرتی ہے۔تم کس امتِ واحدہ کی باتیں کر رہے ہو وہ جو نفرتوں کا شکار ہیں آپس میں؟ جس کی ساری زندگی ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتی ہے ؟ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُم فرمایا یہ ہے تخلیق کا مقصد۔ایسی قوم پیدا ہونا جن کے اندر