خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد۳ 52 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء وہاں وہاں آنحضور ﷺ کی نظر پہنچی یا یوں کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی اور آپ نے اس کے متعلق نصیحت فرمائی۔چنانچہ غیبت کے نتیجے میں ایک اور برائی پیدا ہوتی ہے وہ دکھ پہنچانے کا مفہوم اپنے اندر رکھتی ہے یعنی چغل خوری، تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ غیبت تو منع ہے ہی لیکن اگر کوئی کسی کو غیبت کرتے ہوئے سنے اور وہ اس بات کو اس شخص تک پہنچا دے جس سے متعلق کہی گئی تھی تو اس چغلخور کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی کسی کی طرف تیر پھینکے اور تیر نشانے پر نہ لگے اور وہ اس کے قدموں میں جاگرے اور کوئی شخص اس کے قدموں سے تیرا ٹھا کر اس کے سینے میں گھونپ دے کہ میں نے اس کا مقصد پورا کر دیا ہے۔تو چونکہ دل آزاری منع ہے، بنیادی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ دل آزاری منع ہے، کسی کو دکھ دینا منع ہے، کسی کے گناہوں پر نظر رکھنا منع ہے، گناہوں سے حیا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اس لئے وہ تعلیم سب جگہ جاری وساری نظر آتی ہے ہر جگہ وہ اثر پذیر نظر آتی ہے اور جہاں جہاں اس کا فقدان ہوتا ہے اس کے نتیجہ میں بدیاں پھوٹتی ہیں اور بدیوں میں بھی اسی طرح شاخیں در شاخیں برائیاں آگے پھوٹتی چلی جاتی ہیں۔ی اتنی اہم چیز ہے کہ اکثر دنیا کے فساد خصوصاً خاندانی فساداسی کے نتیجہ میں پیدا ہورہے ہیں۔اتناد کھ پہنچایا ہے ہمارے معاشرے کو اس گندی عادت نے اور یہ گندی عادت ایسی گہری انسانی مزاج میں داخل ہو چکی ہے کہ صرف ہندوستان اور پاکستان کا سوال نہیں تمام دنیا میں یہ گندی عادت موجود ہے اور ہر جگہ معاشرہ کو اس نے تباہ کر رکھا ہے۔باہر کی دنیا جو مصروف ہو چکی ہے، جو اقتصادی لحاظ سے آگے بڑھ گئی ہے، جن کے پاس وقت نہیں رہا، ان کو بھی جب وقت ملتا ہے تو وہ چغلی ضرور کرتے ہیں ، غیبت ضرور کرتے ہیں اور خصوصاً عورتوں میں یہ مرض بہت ہی زیادہ ہے اس لئے یہ ایک عالمی بیماری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی طور پر اللہ کی صفت عفو کو دھتکار دیا گیا ہے، اس سے غفلت کی گئی ہے، اس سے اجنبیت برتی جارہی ہے اور جب صفت عفو سے نفرت کی جائے گی اس کو دھتکارا جائے گا تو جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بیان کیا تھا اللہ تعالی کا عفو اسی حد تک بندوں سے کم ہو جائے گا کیونکہ جو لوگ عفو نہیں کرتے وہ عفو کے سلوک کے حقدار نہیں رہتے ، جو لوگ ستاری نہیں کرتے وہ خدا تعالیٰ کی صفت ستاری کے حقدار نہیں رہتے اس کی رحمت اور اس کی بجلی کے حقدار نہیں رہتے۔