خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 567
خطبات طاہر جلد ۳ 567 خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۸۴ء ہونا۔ایسے لوگوں کے لئے مایوسی کا کیا سوال یا کسی شکوہ کی کون سے گنجائش ہے؟ اس لئے جماعت احمدیہ کی طرف سے تو اپنے رب کے حضور سوائے اسکے کوئی آواز نہیں اٹھ سکتی کہ اے ہمارے آقا! تیرا ابتلا بھی ایک احسان ہی ہے جس کا ہم جتنا چاہیں شکر ادا کریں مگر ہم حق ادا نہیں کر سکیں گے اور ہمیں جو اس کام کے لئے تو نے چن لیا ہے یہ بھی تیرا احسان ہے ورنہ ہم حق دار نہیں تھے اور اس کے نتیجہ میں تو فرماتا ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تمہاری نصرت کو آئیں گے اے خدا! ہم تو کسی چیز کے بھی حق دار نہیں۔تو ہی حق ہے، تیرے ہی بنا پر ہم نے حق کی ادائیں سیکھیں اور ہماری غفلتوں سے پردہ پوشی کے بھی تو نے ہی وعدے فرمائے اور عفو کے طریق بھی ہمیں سکھائے اور پھر عفو کا سلوک بھی ہم سے فرمایا۔پس جو کچھ ہے تو ہی تو ہے ہم تو کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ع حق تو یہ ہے کہ حق کہ حق ادا نہ ہوا (دیوان غالب صفحه: ۶۵) اس سے بہتر مومن کے دل کی اور کوئی آواز خدا کے حضور نہیں اٹھ سکتی۔