خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 563 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 563

خطبات طاہر جلد ۳ 563 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۸۴ء اور جانتے تھے کہ بعض دفعہ سختی کے نتیجہ میں بھلائی پہنچ جاتی ہے۔ چنانچہ ان مواقع پر بڑی حکمت کے ساتھ جو انہوں نے اظہار کیا تو وہ دراصل خیر ہی کا اظہار ہے اَوْ تُخْفُوہ اور جوان کے سینوں ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے وہ بھی شر نہیں ہے وہ بھی خیر ہی خیر ہے۔ دو متقابل گروہ اور ان کی صفات پیش ہو گئیں۔ ایک وہ ہیں کہ جو جب بولتے ہیں گند بولتے ہیں اور ظلم کی بات کرتے ہیں اور سختی سے حق کو دبانے کی بات کرتے ہیں اور جوان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَر ( آل عمران : ۱۹) وہ اس سے بھی زیادہ گند ہے یعنی ان کا ظاہر بھی گند ہے اور ظلم و ستم ہے اور ان کا باطن بھی گندا اور ظلم وستم ہے بلکہ زیادہ گند ہے جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے۔ اسکے مقابل پر کچھ لوگ ہیں کہ کبھی اگر سخت کلامی بھی کرتے ہیں تو خیر کی خاطر کرتے ہیں اور ان کے سینے میں تو خیر ہی خیر ہے شر کا کوئی بھی پہلوان کے سینے میں پیدا نہیں ہوتا ۔ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوء خواہ تم اس کو چھپالو یا سوء سے کلیہ درگزر فرمالو گویا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس طرح متحمل کے ساتھ برائی کے پاس سے گزر جاؤ اسی مضمون کو دوسری جگہ خدا نے فرمایاوَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلْمَانَ (الفرقان : ۲۴ ) گویا کہ ان کے رد عمل تین ہو گئے ۔ جب بولیں گے تو خیر کی خاطر بولیں گے اور خیر کی بات کریں گے ورنہ اپنے دکھ سینوں میں چھپائے رکھیں گے اور یہ علم ہوگا ان کو کہ خدا جانتا ہے کہ ہمارے دلوں پر کیا گزر رہی ہے اور اگر ان کے لئے ممکن ہو تو اس مجلس کو چھوڑ دیں گے اور جب جاہل ان سے بات کرے گا تو کہیں گے سلما اچھا ہم رخصت ہوتے ہیں۔ اب ہماری یہاں مزید بیٹھنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوا قَدِيرًا (النساء : ۱۵۰) ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو عفو پائیں گے۔ انہوں نے خدا کی خاطر عفو سے کام لیا ان کو یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تو ان سے بہت بڑھ کر عفو کرنے والا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ادا کے نتیجہ میں جو خدا کو پسند آئے گی بکثرت ان کے گناہ بخشے جائیں گے۔ کتنا عظیم الشان دور ہے یہ صبر کا دور جس میں خدا کی خاطر آپ صبر سے کام لیتے ہیں اور آپ کے ماضی کے سارے گناہ اور داغ صاف دھلتے چلے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ عفو کا سلوک فرماتا چلا جاتا ہے۔ اور فرماتا ہے قَدِیر وہ قدیر ہے۔ یعنی ان حالات کو اس طرح نہیں