خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 560

خطبات طاہر جلد ۳ 560 خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۸۴ء تشہیر اور سر عام بازاروں میں گندگیاں بکنا اور جلسوں اور جلوسوں میں گالی گلوچ سے کام لینا، اللہ تعالیٰ فرماتا - لا يُحِبُّ الله الجَهْرَ بِالسُّوءِ اگر تمہارے دل میں کسی چیز کی نفرت ہے تو دل میں رکھو لیکن اس کا اظہار اس طرح کرنا کہ دل آزاری کا موجب ہو اور تکلیف پھیل جائے سوء کا مطلب ہے، عام گلیوں میں بازاروں میں اور تمہارے معاشرہ میں عام ہو جائے تکلیف اور تم باز نہ آؤ تکلیف پہنچانے سے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں فرماتا۔إِلَّا مَنْ ظلم ہاں اتفاقاً کسی کے منہ سے بے اختیاری میں بات نکل جائے جب کہ وہ خود مظلوم ہوا ور لوگ اس کے پیچھے ہی پڑ گئے ہوں۔چنانچہ چند دن ہوئے ایک ہمارے دوست نے لکھا کہ میں بڑا سخت شرمندہ ہوں اور بڑا سخت استغفار کر رہا ہوں۔ایک صاحب میرے پیچھے اتنا پڑ گئے ایک مجلس میں اس قدر گالیاں دیں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت پھر آخر مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے بھی اس سے سختی کی اور جب میں نے سختی کی تو پھر اس کو سمجھ آئی کہ یہ کیا با تیں ہوتی ہیں تو اس نے معافی کا خط لکھا اور دعا کا کہ اللہ تعالیٰ معاف بھی کرے اور میرے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ آئندہ مجھے صبر کی توفیق بخشے۔تو صبر بہر حال بہت بہتر ہے لیکن اگر ظلم انتہا کو پہنچ جائے اور بے اختیاری میں کوئی کلمہ بختی کا منہ سے نکل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو مستثنیٰ قرار دیتا ہے اس لئے بعض انبیاء نے بعض دفعہ بختی کی ہے ایک جواب میں اور ا لا میں وہ بھی شامل ہیں مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام جن کے متعلق عام جو تصویر بنتی ہے وہ نہایت نرمی کی ہے۔ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری گال بھی پیش کر دو۔تمہارا فرغل اتارے تو تم قمیص بھی اتار کر پیش کر دو ایسی تعلیم ہے لیکن بعض جگہ ایسی سختی کی ہے جواب میں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے اور اسی قسم کے بعض مواقع ہیں جن صلى الله میں دشمن کو سمجھانے کے لئے۔خصوصاً ان عیسائیوں کو جواب میں جو آنحضرت عیہ کے خلاف زبان درازی کرنے لگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی برداشت نہیں ہوا۔آپ نے چند کلمات سختی کے ان کے لئے استعمال کئے اور آج تک خود مسلمان بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کہ ان عیسائیوں پر جو رسول اللہ ﷺ پر اس قدر گندا چھال رہے تھے تم نے سختی کیوں کی؟ ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔إِلَّا مَنْ ظُلم اور ظلم کا جو معیار ہے وہ