خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 561
خطبات طاہر جلد ۳ 561 خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۸۴ء الگ الگ ہے ہر ایک کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ظلم کا جو معیار ہے وہ نہیں تھا جو عام آدمیوں کا ہوتا ہے۔آپ کے متعلق یہ آتا ہے کہ ایک صاحب آئے باہر سے اور نماز کے بعد جب آپ تشریف فرما تھے تو نہایت گندی گالیاں دینی شروع کر دیں اور جب وہ گالیاں دیتے دیتے تھک گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسکرا کر فرمایا کہ کچھ اور فرمائیے۔چنانچہ پھر اس نے بدکلامی شروع کی کہ میں جانتا ہوں تمہارے جیسے دھو کے باز کو دجال کو، یہ چالا کیاں کسی اور سے کرو ، یہ میرے ساتھ نہیں چلیں گی۔اس قسم کی باتیں کرتے اور گالیاں دیتے اور جب وہ تھک گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر مسکراتے ہوئے فرمایا اگر کچھ اور کہنا ہے تو کہہ لو۔یہاں تک کہ وہ اس حال میں واپس گیا۔اس نے اعلان کیا جاتے جاتے میں نے بہت دنیا میں سفر کئے ہیں اور بہت لوگ دیکھے ہیں مگر ایسا صبر اور حوصلے والا انسان میری زندگی میں کبھی میرے سامنے نہیں آیا۔اپنے بارہ میں صبر کا یہ حال ہے اور جب لیکھرام نے حضور اکرم ﷺ کے متعلق بد زبانی کی تو آپ سے برداشت نہیں ہوا۔جب عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق شدید بد زبانی کی تو بعض جگہ آپ کو سختی کے کلمات کہنے پڑے لیکن یہ بالعموم نہیں تھا بھاری اکثریت آپ کے خطابات کی ان ظالموں سے بھی نرمی کی تھی سمجھانے کی ہے اور بے اختیاری ہے جہاں بھی منہ سے کوئی کلمہ نکلا ہے۔تو احمدیوں کو بھی صبر کو اس مقام تک پہنچانا چاہئے۔یہ بہانہ نہیں بنانا چاہئے کہ إِلَّا مَنْ ظُلم کے نتیجہ میں اب ان کو زبان کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔زبان کھولنے کی کہاں تک اجازت ملی ہے کن حالات میں ملی ہے اسکو تو ہم سنت سے ہی اخذ کریں گے اور سنت انبیاء یہ ہے کہ صبر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں یہاں تک کہ بہت شاذ کے طور پر معمولی کلمات سختی کے ایسے نکلتے ہیں جو اصلاح کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔جذبات سے مغلوبیت کا نشان نہیں ہوتے بلکہ دشمن کو سمجھانے کی خاطر بعض دفعہ وہ سختی بھی ضروری ہو جاتی ہے چنانچہ اس سختی میں بھی حکمت ہوتی ہے اور یہ جو فیصلہ ہے کہ یہاں سختی حکمت کے مطابق ہوگی یا نہیں ہوگی یہ فیصلہ بھی ہر کس و ناکس نہیں کر سکتا اسلئے جہاں تک جماعت کا تعلق ہے جماعت کو کامل صبر سے کام لینا چاہئے لیکن اگر بے اختیاری ایسی ہو جائے کہ کچھ ہو ہی نہ سکے۔اب ایک آدمی کو بات کرتے