خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 554

خطبات طاہر جلد ۳ 554 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۸۴ء اشارہ کیا جارہا ہے۔ آیات کے مقابل پر بظاہر آیت ایک چھوٹا لفظ ہے یعنی ایک آیت ایک نشان لیکن جب اسے نکرہ میں بیان کیا جائے ایہ تو مراد یہ ہوتی ہے کہ ایک بہت ہی عظیم الشان نشان ہے۔ چنانچہ جہاں شہد کی صفات کا ذکر فرمایا فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ وہاں بھی فرمایا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (النحل : ۷۰) اور جہاں بنی نوع انسان کے فوائد کا اس سے پہلے انعام یعنی چو پاؤں کے ساتھ ہونے کا ذکر فرمایا اور جہاں پھلوں کا ذکر فرمایا یہی دو انسانی غذا اور اس کی بقا کا موجب ہیں یعنی چوپائے اور زمین جو پھل اگاتی ہیں ان پر بنیاد ہے انسانی زندگی کی اور وہاں بھی آیات کے بجائے حالانکہ بہت سی چیزوں کا ذکر ہے ، وہاں آیات کے بجائے ایہ کا لفظ فرمایا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الحل : ۲۸) اس میں ایک نشان ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل کرتے ہیں ۔ تو بظاہر ا یہ ہے لیکن جن لوگوں کے لئے نشان ہے وہاں فرمایا لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ اور دوسری جگہ فرما یا لقومٍ يَتَفَكَّرُونَ کہ بظاہر ایک نشان ہے لیکن قو میں اس پر غور کرتی چلی جائیں اور اپنی عقلیں دوڑاتی چلی جائیں لیکن اس نشان کی ماہیت کو پوری طرح پانہیں سکیں گی ۔ یعقلون میں ایک جاری مضمون ہے کہ وہ نشان جو ہے چلتا چلا جاتا ہے اور عقلیں اسکے اوپر آزمائش کرتی چلی جاتی ہیں اور پھر بھی اس نشان کی کنہ کو یا حقیقت کو پوری طرح پانہیں سکتیں۔ اسی طرح لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ کہہ کے یہ فرمایا ایک پوری قوم فکر میں مبتلا ہو جائے ، غور وفکر کرے، تدبر کرے تب بھی اس نشان کی ماہیت کو پوری طرح اخذ کرنے کی اہل نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں جو فرمایا خَلَقَ اللهُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ یہاں تو ساری کائنات کی پیدائش کا ذکر فرما دیا ہے اور اس کثرت سے نشانات ہیں اس میں کہ جو گنے نہیں جا سکتے ۔ چنانچہ قرآن کریم ان نشانات کا او ذکر کلمہ کے طور پر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر : ↓ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ نُفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف : ۱۰) کہ ہمارے نشانات تو اس کثرت سے ہیں کہ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور ان نشانات کو لکھتے لکھتے وہ خشک ہو جائیں اور پھر اور سمندر ہم لے آئیں ان کی مدد کی خاطر تب بھی وہ سمندرسوکھ جائیں گے اور نشانات ختم نہیں ہوں گے اور خَلَقَ اللهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ