خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 547

خطبات طاہر جلد ۳ 547 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۸۴ء وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا تمہیں خدا کثرت سے جو دے گا وہ کن لوگوں کو عطا ہو گا قوم کے ان غریبوں کو جو خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے والے ہیں اور خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے ان لوگوں کے لئے خدا اپنے خزانے کھول دے گا اور اس کثرت سے ان کو عطا کرے گا کہ گویا ان سے سنبھالا نہ جائے اور ان کی راہیں کشادہ کی جائیں گی۔واسع کا اب معنی سمجھ آیا پوری تفصیل سے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا کی راہ میں تنگ کیا جارہا ہے مالی لحاظ سے بھی ، عزتوں کے لحاظ سے بھی اور زمین کی کشادگی کے لحاظ سے بھی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔نکلنے کی راہیں بند کی جارہی ہیں، ہر مصیبت سے نکلنے کی راہ بند ہونا بھی اس میں مراد ہے صرف ظاہری طور پر ہجرت مراد نہیں بلکہ ہر مشکل میں پھنسا کر پھر یہ کوشش کرنا کہ اس مشکل میں انسان اٹکار ہے، نکل کر باہر نہ بھاگ سکے۔سیہ وہ رجحان ہے جو اس وقت جماعت احمد یہ قوم میں ہر طرف سے دیکھ رہی ہے۔اس نقشہ کو کھینچ کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے میں عطا لے کر آؤنگا اور ہر کوشش جوان کوننگ کرنے کی کی جارہی ہے اسے ناکام بنا کر برعکس نتیجہ پیدا کرونگا۔تو چونکہ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ کا مضمون آنا تھا اس لئے واسطح پہلے ہی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تنگ نہیں رہنے دے گا، تمہاری زمینیں تنگ کی جائیں گی خدا کشادہ زمینیں عطا کرے گا تمہیں ایک ملک میں روکا جائے گا خدا نئے نئے ملک تمہیں عطا کرے گا تمہارے رزق کی راہیں تنگ کی جائیں گی اللہ تمہارے رزق کی راہیں کشادہ فرما دے گا۔اور علیم کے معنی یہاں یہ ہیں کہ بظاہر عام انسان کی نظر اس وقت نہیں جاسکتی ان حالات تک کیونکہ ظاہری حالات کو دیکھو تو یہ نتیجہ نکلنا ہی نہیں چاہئے۔علیم ہے خدا تعالیٰ یہ آئندہ ہونے والا واقعہ ہے جس کو بتا رہا ہے ان حالات میں تو تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایسی قوم کے ساتھ یہ مختلف سلوک ہوگا اور بالکل برعکس صورت میں ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔چونکہ اللہ تعالیٰ علیم ہے وہ جانتا ہے اس لئے بتا رہا ہے کہ یہ ہوکر رہے گا۔يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّف اس کا تر جمہ عموما یہ کیا جا تاہے اور یہ بھی درست ہے کہ جاہل لوگ ان کو اپنے غنائے نفس کی وجہ سے التَّعَفُّف سے مراد لی جاتی ہے غنائے نفس یعنی