خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 546 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 546

خطبات طاہر جلد ۳ 546 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۸۴ء تمہیں واپس لوٹائی جائے گی۔وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ کو بظاہر تو یہ مطلب ہے تم ظلم نہیں کئے جاؤ گے مگر عربی میں یہ محاورہ ہے جس طرح انگریزی میں بھی ہے کہ نفی جتنی مضبوط ہوا تنا ہی زیادہ مثبت معنی آجاتے ہیں۔وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم سے نا انصافی نہیں کی جائے گی لا تُظْلَمُونَ کا مطلب یہ ہے تمہیں اس کثرت سے دیا جائے گا کہ گویا تم سے سنبھالا نہ جائے۔بالکل بر عکس معنی ہے اس کا نا انصافی کا تو سوال ہی کوئی نہیں تُوَفَّ إِلَيْكُمُ میں وہ نا انصافی والا حصہ پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔یوف کا مطلب ہے پورا پورا تمہیں دے دیا جائے گا۔جب پورا پورا دے دیا گیا تو پھر نا انصافی کا کیا سوال ہے؟ لَا تُظْلَمُونَ کا مطلب یہ ہے کہ اس سودے میں تم یہ دیکھو گے کہ تم گھانا کھانے والے نہیں ہو بہت کثرت سے تمہیں خدا تعالیٰ عطا فرمائے گا۔لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ یہاں ایک معنی معروف اس آیت کا یہ ہے کہ یہ خرچ جو تمہارے لئے معنوں میں تمہارے لئے ہے؟ فَلا نُفُسِكُم كن لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ یہ ان غریبوں کو عطا ہو گا قوم کی طرف سے ان کے او پر خرچ کیا جائے گا۔الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ جن کو خدا کی راہ میں چلنے کی بھی مقدرت نہیں رہی، گھیرے پڑ گئے ہیں ، قوم نے ان کے لئے نجات کی راہیں بند کر دی ہیں۔يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ ان کو یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تعفف کی وجہ سے جاہل ان کو امیر سمجھ داردج۔رہا ہے۔تَعْرِفُهُمْ بِیمُهُمْ تو ان کے چہروں کی نشانیوں سے ان کو پہچانتا ہے لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافَا وہ کسی انسان سے مانگتے نہیں پیچھے پڑ کر۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ جو تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔تو ایک معنی تو معروف یہ ہے کہ یہ خرچ جو تم کرتے ہو خدا کی راہ میں یہ بالآخر قوم کے غریبوں ، قوم کے کمزوروں کو پہنچتا ہے ان میں طاقت پیدا ہوتی ہے لیکن ایک اور معنی بھی یہ ہے جو نہایت اعلیٰ درجہ کا معنی اول درجہ کے خدا کے مخلصین کے لئے ہے وہ یہ ہے: