خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 544

خطبات طاہر جلد۳ 544 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۸۴ء کرتے ہو او نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ اور جو خرچ کی تمنا رکھتے ہو تمہارا دل چاہتا ہے کہ کریں اور نہیں ہوتا پھر تم نذریں مانتے ہو کہ اے خدا! یہ ہمیں مل جائے تو ہم یہ خرچ کریں گے وہ مل جائے تو وہ خرچ کریں گے۔فرماتا ہے کہ کئے ہوئے خرچ پر بھی خدا کی نظر ہے اور اس خرچ پر بھی نظر ہے جس کی حسرتیں تم دلوں میں رکھتے ہو، جن کی تمنائیں لئے ہوئے ہو گویا دونوں خدا نے مقبول کر لئے۔يعلمہ کا یہ مطلب نہیں کہ صرف نظر ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں آیا گویا خدا کومل گیا تمہاری طرف سے۔وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ اَنْصَارٍ اور ظالموں کے لئے تو کوئی مددگار نہیں ہوا کرتا مراد یہ ہے تمہارے لئے تو ضرور مددگار آئیں گے۔ہم تو ظالموں کو نہیں مدد دیا کرتے لیکن ایسے پیاروں کو جو ہماری خاطر خرچ کرتے ہیں اور پھر خرچ کی اتنی تمنار کھتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ان کو مدد کے بغیر چھوڑ دیں۔اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَاِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ط الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَاتِكُمْ * اب صدقات تم اگر کھلم کھلا پیش کرو تا کہ لوگوں میں تحریک پیدا ہو اور خدا کی راہ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر اموال خرچ کئے جائیں تو یہ بھی بہت اچھی نیت ہے اور اگر تم چھپا کر غریبوں میں وط اس طرح دو کہ کسی کی نگاہ نہ پڑے تو یہ بھی تمہاری لئے بہتر ہے۔خَيْرٌ لَّكُمْ سے مراد یہ ہے کہ تمہیں اس خطرہ سے بچائے گی یہ بات کہ تم میں ریا پیدا ہو جائے، تم میں دکھاوا آ جائے اور بظاہر نیکی پر خرچ کر رہے ہو لیکن عملاً اپنی انانیت کے او پر خرچ کر رہے ہو ان خطرات سے بچ جاؤ گے۔وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اور جس طرح بھی تم خرچ کرو گے یہ یاد رکھ لینا کہ اللہ کی اس پر نظر ہے۔تو ظاہر کا خرچ بھی اور باطن کا خرچ بھی یہ دونوں خرچ تب مقبول ہوں گے اگر اس طریق پر کئے جائیں کہ انسان واقف ہو اس بات سے کہ خدانظر رکھتا ہے اور خدا کی نظر کو لوظ رکھتے ہوئے اگر ہم کھلم کھلا خرچ کریں تو اس کو ریا کاری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ریا کاری تو خدا کے سامنے اس طرح غائب ہو جاتی ہے جس طرح شبنم اڑ جاتی ہے سورج کو دیکھ کر۔جس کی توجہ خدا کی طرف ہو کہ اللہ میرے معاملات سے باخبر ہے، میری روح کی پاتال تک نظر رکھتا ہے، وہ جب کھلم کھلا خرچ بھی کرتا ہے تو خدا کی نظر کی خاطر کرتا ہے۔اس وجہ سے تا کہ قوم میں تحریک پیدا ہوا ایک عام رجحان پیدا ہو جائے اور