خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 537
خطبات طاہر جلد۳ 537 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۸۴ء والو! جو کچھ تم کماتے ہو ان میں سے طیبات خدا کے حضور پیش کیا کرو وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ اور ان چیزوں میں سے پیش کیا کرو جو خود ہم نے ہی تمہارے لئے زمین میں سے نکالی ہیں۔انسان کے لئے زمین سے جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان میں سے وہ بہترین چیزیں خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے مقدر کی ہیں اور طیبات کا فلسفہ اس میں بیان کیا کہ تم خدا کی طرف مال کو واپس لوٹاتے ہوئے طیب کو چنا کرو۔کیونکہ زمین میں کروڑوں، اربوں قسم کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان میں خبیث بھی ہیں اور طیب بھی اور جتنی طیب ہیں وہ ساری انسان کے لئے رکھی گئیں اور جتنی خبیث ہیں وہ دوسرے ادنی جانوروں کے کام آتی ہیں یہاں تک کہ انسان کا پھینکا ہوا فضلہ بھی دوسرں کے کام آتا ہے اور اس فضلے کو بھی دوسرے خدمت کر کے پھر طیب میں بدل رہے ہوتے ہیں۔تو سارا نظام کا ئنات اگر آپ غور کریں تو خبیث کو طیب میں بدلنے کا ایک نظام ہے اور جب وہ طیب بن جاتا ہے تو پھر انسان کے حضور پیش ہو جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو باتوں کو پیش نظر رکھنا ایک تو یہ کہ تم ہمیں نہیں دے رہے بلکہ ہم تمہیں دے رہے ہیں اور اگر ہم دینا بند کر دیں تو تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔اگر زمین اُگانا بند کر دے، اگر آسمان برسنا بند کر دے تو جن امور پر تم فخر کرتے ہو اور اپنا سمجھ رہے ہو ان میں سے کچھ بھی تمہارے پاس باقی نہ رہے اور پھر یہ بھی خیال رکھنا کہ ہم تمہیں بہترین دے رہے ہیں زمین میں سے تم ہمیں دیتے وقت ایسی خبیث چیز نہ دینا ایسی گندی چیزیں نہ دینا وَلَسْتُمْ بِاخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ کہ خود کوئی تمہیں پیش کرے تو شرم اور حیا سے تمہاری آنکھیں جھک جائیں یا چھپ کر لینا تو قبول کر لوسر عام لینا قبول نہ کرو۔چنانچہ اکثر ہمارے ملک میں بدقسمتی سے صدقات اور خیرات میں یہی طرز اختیار کی جاتی ہے کہ جو گندی چیز ہو جو کسی کام کی نہ رہی ہوا سے لپیٹ لپٹ کرتا کہ لینے والے کو بھی نہ پتہ لگے کہ کیا دیا جا رہا ہے اس طرح پیش کر دیا جاتا ہے کہ گھر جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کیا چیز تھی۔تُغْمِضُوا کا خیال تو اب دینے والے رکھنے لگ گئے ہیں۔پہلے زمانے میں شاید انسان کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ کھلم کھلا دے دیا کرتا تھا کہ یہ کمزوری ہے اس میں چاہتے ہو تو لے لو تو اس وقت نگاہیں نیچی کرنے کا سوال تھا اب ایسے ایسے بھی پیدا ہو چکے ہیں انسان جو دیتے وقت اس طرح لپیٹ دیتے ہیں کہ کسی کو