خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 527

خطبات طاہر جلد ۳ رحم کرنے والا ہے۔527 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء وَكَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْأَيْتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ ہم اسی طرح اپنی آیات کو کھولتے رہے ہیں، کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہے ہیں۔وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ تا کہ مجرموں کی راہ کھل کر الگ ہو جائے۔یہ جو آخری آیت ہے اس میں ایک بہت ہی گہری حکمت کی بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ حق کو باطل سے الگ کرنے کے لئے بعض دفعہ ایسے دور آتے ہیں کہ حق ممتاز ہو کر نتھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور بعض دفعہ ایسے دور آتے ہیں کہ ظلم اور ستم اور جاہلیت نتھر کر خود الگ ہونا شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ نظریں فرق محسوس کرنے لگ جاتی ہیں۔یہ دو قسم کے واقعات کچی قوموں کی زندگی میں آتے ہیں۔بعض آنکھیں سچ کو پہچاننے کی طاقت رکھتی ہیں ، وہ جب پاک پیشانیوں پر نظریں ڈالتی ہیں تو جان لیتی ہیں کہ یہ صداقت ہے، اس میں صفائی ہے اسکے سوا کچھ بھی نہیں۔الله صلى الله چنانچہ ایسے دور بھی انبیاء کی تاریخ میں آتے ہیں جب کہ صرف نظروں نے دیکھا سچائی کو اور قبول کر لیا۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ اسی کی ایک مثال ہے آپ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضور علیہ نے دلائل دینے کی کوشش کی تاکہ ان کو ٹھوکر نہ لگے اور بات سمجھ جائیں تو بار بار یہی پوچھتے رہے کہ یا رسول اللہ! میں دلائل نہیں پوچھ رہا، بلکہ اے محمد! میں دلائل نہیں پوچھ رہا اس وقت تک تو ابھی رسول تسلیم نہیں کیا تھا۔میں صرف یہ پوچھتا ہوں کہ آپ نے دعوی کیا ہے کہ نہیں ؟ آخر دو تین کوششوں کے بعد آنحضور ﷺ نے دلائل دینے کا ارادہ ترک فرما دیا اور کہا ہاں ابوبکر ! میں نے دعوی کیا ہے اور خدا نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر بے اختیار بول اُٹھے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ أَنْ مُحَمَداً رَسُولُ اللَّهِ - اگر آپ نے دعوی کیا ہے تو میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور آپ اے محمد ! خدا کے رسول ہیں اور پھر خود وضاحت کی کہ یا رسول اللہ ! میں تو اس لئے دلیل نہیں سننا چاہتا تھا کہ میں نے آپ کا چہرہ دیکھا ہوا ہے اور اس چہرے کا حسن ، اس کی صداقت ایسی ظاہر وباہر ہے کہ