خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 520
خطبات طاہر جلد ۳ 520 خطبه جمعه ۱۴ر تمبر ۱۹۸۴ء لئے بھی ہماری راہیں بند کرو اور دشمن کے ہاتھ مضبوط کر و اسلام کے خلاف؟ کوئی حد تو ہونی چاہئے۔اس سے باز آنا چاہئے اب کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بار بار یہ وقت اب تھوڑا رہ گیا ہے میرے نزدیک۔وہ دن قریب ہیں جب خدا کی پکڑ ان کو لے لے گی اور جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ (ص:۴) اس وقت وہ گھیرا پڑ چکا ہوتا ہے۔پھر باہر نکل کر بھاگنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔تو اللہ تعالیٰ کا خوف کرو اور خدا کے نام پر قرآن کریم سے مذاق نہ اڑاؤ۔اسلام کے تصور انصاف کی دھجیاں نہ بکھیر و۔تقویٰ کے نام پر ہر جہالت کی تعلیم نہ دو کیونکہ اس کے نتیجے میں خدا تعالی زیادہ دیر تک تمہیں ڈھیل نہیں دے گا۔یہی میری نصیحت ہے اللہ تعالیٰ معاف کرے اس قوم کو۔اس میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔میں پھر تکرار کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو اس وقت جماعت احمد یہ پرظلم کر رہے ہیں وہ بہت تھوڑے ہیں تعداد میں۔ایک معمولی اقلیت ہے جسکی کوئی بھی حیثیت نہیں ملکی اکثریت کے مقابل پر اور وہ اقلیت نافذ ہو چکی ہے بد بختی سے اس لئے اسکے داغ سارے ملک کی طرف احمدی نے منسوب نہیں کرنے یہ میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں اور وہ دکھ جو ہیں ان کے نتیجہ میں اکثریت کو کوئی بد دعا نہیں دینی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اکثریت کی شرافت ہے جو جماعت احمدیہ کے اوپر مزید مظالم نہیں ٹوٹے۔بہت زیادہ خوفناک حالات ہو سکتے تھے اگر بھاری اکثریت شریف نہ ہوتی۔عدالتیں ہیں، پولیس ہے، ہر قسم کے محکمے ہیں بعض لوگ ہیں جو بت پرست رجحان رکھنے والے وہ حکومت کی خاطر ہر ظلم کر جاتے ہیں لیکن وہ بہت ہی تھوڑے ہیں، گنتی کے چند ہیں وہ۔بھاری اکثریت ہے جس کا دل اس فیصلے میں نہیں ہے، کھلم کھلا وہ کہتے ہیں جب ان کے پاس اس قسم کی شکائتیں آتی ہیں تو وہ رد کر دیتے ہیں ان کو کہتے ہیں جو چاہو کر وحکومت سے ہماری شکایت کرو لیکن ہم یہ جاہلا نہ بات نہیں کریں گے۔تو قوم کی حالت نہ صرف یہ کہ اتنی خراب نہیں جتنی مجھی جارہی ہے بلکہ دن بدن قوم کو ان اندھیروں کو دیکھنے کے نتیجے میں روشنی ملنی شروع ہو گئی ہے اور وہ باتیں جو اس سے پہلے آپ نہیں سمجھا سکتے تھے آج قوم خود سمجھنے لگ گئی ہے کہتے ہیں: تنزل کی حد دیکھنا چاہتا ہوں کہ شاید یہیں ہو ترقی کا زینہ