خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 521 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 521

خطبات طاہر جلد ۳ 521 خطبه جمعه ۴ ار ستمبر ۱۹۸۴ء تو بعض دفعہ قوموں کو تنزل کی حد میں جا کر ترقی کے زینے ملتے ہیں یہی حال اس وقت پاکستان کی قوم کا ہے۔بعض ظالموں نے ظلم کی اور جہالت کی انتہا کر دی یہاں تک کہ ایک ردعمل پیدا ہو گیا ہے اور عوام الناس دن بدن دیکھنے لگے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمدردیاں دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہیں۔اتنی شدید کوشش کی ہے حکومت نے لکھو کہا روپیہ خرچ کر کے کہ جماعت احمد یہ بدنام ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف نہایت گندی کتا بیں شائع کروا ئیں۔ڈرامے لکھوائے لوگوں سے ذلیل، ربوہ کے متعلق عجیب و غریب کہانیاں شائع کروائی گئیں۔ہر قسم کا گند اور خبث باطن جو ان کا اپنا تھا وہ نکلوا کر جماعت پر پھینکا۔عام حالات میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اگر ایسی بات ہوتی تو کیسی قیامت وہاں ٹوٹ سکتی تھی مگر جتنی یہ زیادہ کوششیں ہو رہی ہیں اتنا ہی زیادہ عوام رد عمل دکھا رہے ہیں اور جماعت کے زیادہ قریب آتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے بڑی جہالت ہوگی کہ جب آپ اُن کے پیچھے جا رہے تھے اور وہ آگے دوڑ رہے تھے اس وقت تو آپ دعائیں کر رہے ہوں اور جب وہ آپ کی طرف دوڑنے لگے ہیں تو آپ ان کے لئے بددعا شروع کر دیں اس لئے بعض بے صبرے لوگ جو خطوں میں بے قرار ہو کر کہتے ہیں کہ قوم تباہ ہو جائے نعوذ باللہ من ذلک یہ ہو جائے ان کو میں بتا رہا ہوں کہ تمہارا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر تم اس قسم کی سوچ سوچو۔تم نے بھلائی سوچنی ہے بنی نوع انسان کی اور خاص طور پر اپنے اہل وطن کی اس لئے پاکستانی کا فرض ہے خصوصیت کے ساتھ اور احمدی کا بالعموم احمدیت کی بقا کی خاطر کہ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رجحان کو اور زیادہ بڑھائے اور زیادہ تقویت دے، ان پر رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے مخالف حالات میں بھی سچ کی خاطر زبان کھولنی شروع کر دی ہے، ان کے گھروں کو برکتیں عطا فرمائے جنہوں نے تحریک اور تحریض کے باوجود، حکومت کی چھتری کے باوجود احمدیوں کولوٹنے سے احتراز کیا۔آج سے زیادہ بہتر موقع احمدی کے خلاف ظلم کا پاکستان میں نہیں آسکتا اور اس کے باوجود بھاری اکثریت ہے جو موقع پانے کے باوجودرک رک رہی ہے اور اس کو استعمال نہیں کر رہی۔تو اس قوم کے لئے تو بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ اس قوم کو توفیق عطا فرمائے کہ جلد جلد ان کی آنکھیں کھلتی چلی جائیں جیسا کہ نظر