خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 517

خطبات طاہر جلد ۳ 517 خطبه جمعه ۱۴ ر ستمبر ۱۹۸۴ء صلى ال تو حکم دیا جا رہا ہے کہ ضرور بنو۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ شان الگ ہے جو باقی انسانوں کی طاقت میں نہیں ہے کہ ایسا ہو سکے ورنہ خدا تعالیٰ نے اگر نعوذ باللہ من ذلک بائیبل جیسی تعلیم قرآن میں دینی ہوتی تو پھر یہ کہنا چاہئے تھا کہ محمد ﷺ کی شان اتنی بلند ہے کہ ہم کسی کو اسکی Imitation (نقالی ) کی اجازت نہیں دے سکتے۔ کوئی شخص بھی اگر نقل اتارے گا رسول اکرم کی تو اسکو سزاملنی چاہیئے کہ گویا وہ نعوذ باللہ من ذلک محمد بن رہا ہے۔ ایک یہ بھی تو رجحان ہو سکتا ہے۔ ایک یہ بھی طرز اختیار کی جاسکتی ہے کتنی بڑی گستاخی ہے یہ نہ ہو کہ لوگ کہیں اس کو محمد علی ہی سمجھنے لگ جائیں نعوذ باللہ من ذلک۔ حضرت محمد مصطفی کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اول تو یہ کہ ساری دنیا کی کوششیں محمد " پیدا کر ہی نہیں سکتیں لیکن دعوت یہ ہے کہ ضرور بننے کی کوشش کرو۔ یہ نہیں ہے کہ ویسا نہیں بننا ورنہ بے عزتی ہو جائے گی۔ یہ تعلیم تو اس زمانہ کی ایسی ایجاد بلکہ ایجاد تو نہیں کہنا چاہئے تکرار ہے آدم کے زمانہ کی اب دوبارہ جس کی تکرار کی جاری ہے، اگر اچھوں جیسا بنے کی کوشش کرو گے تو اچھوں کی بے عزتی ہو جائے گی اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہ انصاف ہے اور شریعت کے عین مطابق ہے کس شریعت کے مطابق ہے؟ قرآنی شریعت میں تو اس کا کوئی اشارہ کوئی ذکر بھی نہیں ملتا ۔ آنحضور عال جیسا بننے کی کوشش کرنا اگر آنحضور کی نعوذ باللہ من ذالک ہتک نہیں ہوتی تو عام مسلمان جیسا بننے سے عام مسلمان کی ہتک کیسے ہو جائے گی؟ تم نعوذ باللہ حضور اکرم سے بڑھ کر معزز ہو خدا کی نظر میں کہ وہاں تو عام دعوت دی جا رہی ہے کہ آؤ اور محمد مصطفیٰ " بننے کی کوشش کرو اور یہاں یہ حکم دے رہی ہے شریعت کہ عام مسلمان جیسا بھی نہیں بناور نہ مسلمان کی بے عزتی ہو جائے گی۔ d کوئی ایک ہو جہالت کی بات تو انسان اسے بیان بھی کر سکے یہاں تو جہالت کا ایک ایسا مرکب تیار ہوا ہے جیسے حکیم معجون بناتے ہیں جو دماغ میں چیز آتی ہے اسے بیچ میں ڈالتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ کوئی سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا چیز تھی وہ؟ جہالت کا ایک مرکب بن گیا ہے یہ فیصلہ اور بار بار یہ اعلان ہے کہ نہیں یہ تو تمہارے ساتھ عین انصاف ہے ۔ تم یہ کہنے کا کیا حق رکھتے ہو کہ ہم نا انصافی کر رہے ہیں ۔ تمہیں ہم نے حق دے دیا ہے نبی سمجھو یہ الگ بات ہے کہ ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ نبیوں جیسا سلوک بالکل نہیں کرنا، کوئی بات نہیں ماننی، جو حکم ہے اسکی نافرمانی کرنی ہے، اس سے کیا فرق پڑ جائے گا ؟ ہم تمہیں انسان کہتے ہیں ، انسان جیسا سمجھتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہہ رہے