خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 516

خطبه جمعه ۴ ار ستمبر ۱۹۸۴ء خطبات طاہر جلد ۳ 516 زمانہ لوٹ آیا ہے اور ویسی باتیں بنانے والے انسان اور پھر خدا کی طرف منسوب کرنے والے آج بھی ویسے ہی ہیں۔آج بھی ان باتوں کو بنا کر خدا کی طرف منسوب کیا جارہا ہے لیکن شریعت اول کی طرف نہیں شریعت آخر کی طرف۔ابتدائی شریعت کی طرف نہیں بلکہ اس شریعت کی طرف جو اپنے ارتقاء کے انتہائی منازل طے کر چکی ہے گویا نعوذ باللہ آج بھی اس شریعت کی آواز یہ ہے کہ نیک و بد کی تمیز میں کوئی انسان ہم جیسا نہ ہو جائے ورنہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ بھی انسان ہے۔قرآن کریم کی تو یہ تعلیم نہیں۔قرآن کریم میں جو خدا آنحضور ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے وہ تو بالکل اور ہے۔خدا تعالی یہ فرماتا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران :۳۲) کہ اے محمد اعے ہر اچھی چیز جو ہم نے تمہیں دی ہے۔اعلان کر کہ آؤ اور اسے قبول کرو اور میرے جیسے بنتے چلے جاؤ۔یہ ایسی نعمت نہیں ہے جس سے میں تمہیں محروم کرنے کے لئے آیا ہوں اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو دوڑ کر میری طرف آؤ اور میرے جیسا بننے کی کوشش کرو۔جو کچھ میں کرتا ہوں وہ کرتے چلے جاؤ تو خدا بھی تم سے محبت کرنے لگے گا۔کہاں یہ تعلیم اور کہاں بائیبل کی وہ تعلیم کہ نیک و بد کی تمیز میں ہم جیسا نہ ہو جائے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اور اس پاک کلام کی طرف یہ چیز آج منسوب کی جانے لگی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے آنحضرت ﷺ کے متعلق کہ ہم نے ساری دنیا کے لئے اسوہ بنا کر بھیجا ہے اور یہ اسوہ حسنہ ہے اور اسوہ حسنہ تو اسکو کہتے ہیں اس جیسا بنا جائے اور دعوت عام ہو تمام دنیا کے لئے کہ آؤ مجھے جیسا بن کے دکھاؤ۔لوگ بننے کی کوشش کریں ،ساری زندگیاں خرچ کر دیں اور مجاہدات کریں کچھ نہ کچھ تو ویسے ہو جائیں لیکن ویسا بن کر دکھا نہ سکیں بعینہ وہ چیز نہ بن یمیں۔یہ وہ مقام محمدی ہے جسکو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم تمہیں نقالی سے منع نہیں کر رہے، ہم تمہیں یہ نہیں کہتے کہ محمد جیسا نہ بننے کی کوشش کرو ورنہ اس سے ہمیں تکلیف پہنچے گے۔ہم تو ایک چیلنج دیتے ہیں کہ آؤ اور محمد جیسا بننے کی کوشش کرو۔ساری زندگیاں تم یہ مجاہدے کرتے رہو گے کچھ نہ کچھ ضرور بنو گے لیکن پھر بھی محمد ﷺ دوبارہ نہیں بن سکتے لیکن قانو ناروکا نہیں جارہا، قانوناً