خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 511

خطبات طاہر جلد ۳ 511 خطبه جمعه ۱۴ار ستمبر ۱۹۸۴ء شریعت کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ خطبه جمعه فرموده ۱۴ ستمبر ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے قرآن کریم کی آیات سے استنباط کرتے ہوئے جماعت پر یہ واضح کیا تھا کہ جہاں تک قرآنی تعلیم کا منشا اور مدعا ہے کوئی حکومت بھی جو انصاف سے عاری ہو اسلامی حکومت کہلانے کا حق نہیں رکھتی اور کوئی عدالت بھی جو انصاف سے عاری ہوشرعی عدالت کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔اس سلسلہ میں ایک اسلامی کہلانے والی حکومت میں جو کچھ انصاف کے نام پر ہو رہا ہے اسکی چند مثالیں میں نے آپ کے سامنے پیش کی تھیں۔آج میں ایک ایسی عدالت کا ذکر کرتا ہوں جو شرعی کہلاتی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ انصاف کے مطابق کام کر رہی ہے یا انصاف سے تہی ہے؟ اگر یہ قطعی طور پر ثابت ہو کہ وہ عدالت انصاف پر قائم نہیں تو قرآن کریم کی بات مانی جائے گی اس عدالت کا دعوی نہیں مانا جائے گا اور ہر گز کسی ایسی عدالت کو شرعی عدالت نہیں کہا جائے گا یا تسلیم نہیں کہا جا سکتا جو قرآن کی رو سے انصاف پر مبنی فیصلے نہیں کرتی۔ہمارا جو معاملہ بعض احمدی وکیلوں نے پاکستان میں قائم کردہ ایک شرعی عدالت میں پیش کیا اس کے تفصیلی فیصلے کا تو ابھی انتظار ہے اور جب بھی وہ تفصیلی فیصلہ آئے گا میدان وکلا کا کام ہے جنہوں نے ابتدا میں مقدمہ پیش کیا تھا کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ آیا اسکی اپیل کسی بالا عدالت مثلاً سپریم کورٹ میں کرنی ہے یا نہیں کرنی اور جو دلائل وہ دیں گے ان کو دیکھیں کہ کس حیثیت سے ان دلائل کے اوپر بحث