خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 508
خطبات طاہر جلد ۳ 508 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء اسکے ساتھی سردار اس طرح ہلاک ہونگے کہ ان کے دونوں ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ کس شان کے ساتھ وہ آواز پوری ہوئی ؟ تو جس قوم کے حق میں یہ آواز میں بلند ہو رہی ہوں تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَ تَبَّ (اللعب (٣) ہلاک ہو گیا ابولھب اور اسکے دونوں ہاتھ بھی کاٹے گئے اس کے لئے لئے۔ یہ کہنا مظلومیت ومیت سے مغموم ہو جانا اور دب جانا اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے دعا کریں اور دعا یہ کریں کہ ایک ظالم کاظ ظالم کا ظلم ان کے اوپر نہ ٹوٹے کیونکہ بعض دفعہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ جب قومی عذاب آتے ہیں تو پھر کھرے کھوٹے کی تمیز نہیں کی جاتی ۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ، اور ان کو ہوش دلائے ۔ مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ وقت قریب سے قریب آرہا ہے اور بہت ہی بھیانک سزائیں مقدر ہیں ان لوگوں کے لئے اور یہ مجھے پتہ ہے کہ آپ کے دل خواہ کتنے ہی دکھی ہوں آپ کا دل کتنا ہی یہ کہتے ہوں کہ یہ ہو وہ ہو جب سزا آئے گی تو سب سے زیادہ آپ کو تکلیف پہنچے گی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو پاک دل بنا دیا ہے اپنی دعاؤں سے، اپنی گریہ وزاری سے، اپنی نیک نصائح سے، معاف کرنے والا دل دیا ہے، حلیم دل دیا ہے، اپنے دشمن کے دکھ پر بھی رونے والا دل دیا ہے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ جب آتھم کے متعلق پیشگوئی تھی تو جس رات وہ وقت ختم ہونا تھا اس رات سارا قادیان بے چین تھا اور یہ دعائیں تو کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ آج اس پر عذاب آجائے اور حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام سچے ثابت ہوں ۔ صبح اٹھ کر کسی صحابی نے یہ ذکر کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہم تو یہ دعا کرتے رہے ہیں کہ اللہ اسکو تو بہ کی توفیق دے اور نہ عذاب آئے ۔ جسکی سچائی کا سوال تھا اس کا تو یہ دل تھا اس لئے ہمیں تو وہی دل ملا ہے کہ جب سزائیں ملیں گی تو سب سے زیادہ درد ہمیں ہی پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور اس وقت سے پہلے اس قوم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں نے جس کتاب کا ذکر کیا تھا وہ فصل الخطاب نہیں ہے بلکہ القول الفصل ہے۔ فصل الخطاب حضرت خلیفة مسیح الاوّل کی کتاب ہے اور القول الفصل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ہے۔ تو پہلے یہی یہ حرکت کر چکے ہیں کہ القول الفصل کو حضرت میاں بشیر احمد کی طرف