خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 509
خطبات طاہر جلد۳ 509 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء منسوب کرنے کی بجائے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور باوجود اس کے کہ غلطی ظاہر کی گئی تھی پھر دوبارہ اس کا تکرار معلوم ہوتا ہے بد دیانتی سے کیا جارہا ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: آج دو غائب جنازے پڑھے جائیں گے۔ایک حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی بیگم حضرت یو صاحبہ کہلاتی تھیں اور ہمارے ناظر اعلیٰ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی والدہ ، وہ چند دن ہوئے ہیں وفات پاگئی ہیں اور اس میں تو میری اپنی خواہش تھی کہ میں یہ جنازہ پڑھ سکتا لیکن مجبوری تھی اس لئے یہ جنازہ غائب پڑھا جائے گے۔اسکے علاوہ ایک سلسلہ کے پرانے خادم ہیں، ان کے لئے اگر چہ درخواست کوئی نہیں آئی لیکن میرے اپنے دل کی یہی تمنا ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں میں بھی شامل ہوں ، مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری ، کافی بڑا لمبا عرصہ دیار افریقہ میں تبلیغ اسلام کی ہے اور بہت ہی محنت اور خلوص سے اور بہت بے لوث خدمت کی ہے اور بڑی بڑی مصیبتوں میں سے گزرے ہیں۔ان کی ایک کتاب ” روح پرور یادیں بڑی دلچسپ کتاب ہے اور واقعی بڑی روح پرور ہے، میں نے وہ پڑھی ہے۔ان کے اپنے واقعات بھی ہیں اور سلسلہ کے دوسرے مبلغین کے واقعات بھی ہیں افریقہ میں حالات بہت ہی زیادہ تکلیف دہ تھے اور جماعت کے لئے بے انتہا مصیبتیں تھیں اور کوئی ذرائع میسر نہیں تھے۔ایسے ذرائع بھی نہیں تھے کہ جس کو بھیجا جائے اسکو وقت پر واپس بلایا جائے۔بعض دفعہ سالہا سال ایسے آئے کہ ایک آنہ بھی مبلغ کو نہیں بھجوایا جا سکتا تھا وہ جڑیں نکال کر اور مرچ لگا کر کھاتے اور گزارہ کرتے رہے۔یہ بعض مبلغین ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں۔انکی کتاب ضبط کر لی گئی تھی اور اس جرم میں ان کو قید بھی کیا گیا اور ابھی مقدمہ کی حالت میں ہی تھے، ابھی بھی آزاد نہیں ہوئے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی۔جب خدا کسی کو آزادی دیتا ہے تو کون ہے جو اسکو روک سکتا ہے؟ یہ تو اپنی جنت میں چلے گئے ہیں اللہ تعالی پکڑنے والوں پر رحم کرے ان کے لئے کیا مقدر ہے یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔تو ان کا غائب جنازہ بھی ہوگا۔