خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد ۳ 45 خطبہ جمعہ ۲۰ / جنوری ۱۹۸۴ء کرتے ہیں، ان کو گھروں میں بھی اپنے رسوا اور ذلیل کر دیتا ہے اور باہر بھی رسواو ذلیل کر دیتا ہے اس لئے وہ بندے تو یہاں مراد نہیں ہیں۔اگر آپ وہ بندہ بننا چاہتے ہیں تو اپنے بھائیوں سے مغفرت کا سلوک کریں اورستاری کا سلوک کریں۔مغفرت تو وہ معاملات ہیں جن میں آپ کا ذاتی بخشش کا معاملہ ہے۔آپ کا گناہ ہے آپ بخشش کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے یہ الگ بحث ہے لیکن ستاری کو اپنا ئیں کیونکہ ستاری کے نتیجہ میں اللہ کی ستاری اس دنیا میں بھی حاصل ہوگی اور اس دنیا میں بھی حاصل ہوگی۔آخر پر اس مضمون پر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو اقتباس پڑھ کر اس خطبہ کوختم کرتا ہوں آپ نے فرمایا: ”انسان کے ایمان کا بھی کمال یہی ہے کہ تخلق باخلاق اللہ کرے۔(یعنی اللہ کے اخلاق کے رنگ میں اپنے اخلاق رنگین کر دے) یعنی جو جو اخلاق فاضلہ خدا میں ہیں اور صفات ہیں ان کی حتی المقدور اتباع کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے۔مثلاً خدا تعالیٰ میں عفو ہے ،انسان بھی عفو کرے۔رحم ہے، حلم ہے، کرم ہے، انسان بھی رحم کرے چلم کرے، لوگوں سے کرم کرے۔خدا تعالیٰ ستار ہے، انسان کو بھی ستاری کی شان سے حصہ لینا چاہئے اور اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے اور ایسے بہت سے لوگ ہیں خوب سن لین کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی کی کوئی بدی یا نقص دیکھتے ہیں جب تک اس کی اچھی طرح سے تشہیر نہ کر لیں ان کو کھانا ہضم نہیں ہوتا۔حدیث میں آیا ہے جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا ہے ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ: ۶۰۹،۶۰۸) پھر حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں: