خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۳ 44 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء کہ حضرت صفوان بن محرز سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا ایک شخص کو جو حضرت ابن عمر سے سوال کر رہا تھا اور اس نے سوال یہ کیا کہ وہ ذرا مخفی سر والی بات کے متعلق تو روایت بیان کریں کہ وہ کیا بات تھی کہ جس میں سرگوشی کے لہجہ میں کوئی بات ہوئی تھی کوئی ذکر ملتا ہے وہ ہمیں بھی سنا دیں۔تو اس پر حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے راز اور سر گوشی کے انداز میں فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کے قریب ہوگا قیامت کے دن یہاں تک کہ وہ اپنا سایہ رحمت اس پر ڈالے گا پھر فرمائے گا تو نے فلاں فلاں کام کیا تھا۔وہ کہے گا ہاں میرے رب۔پھر کہے گا فلاں فلاں کام بھی کیا تھا۔وہ اقرار کرے گا اے اللہ ! مجھ سے یہ سرزد ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اس دنیا میں بھی تیری کمزوریوں کی پردہ پوشی کی تھی آج قیامت کے دن بھی تیری پردہ پوشی کرتا ہوں۔(بخاری کتاب الادب بات ستر المؤمن على نفسه ) کیسا پیارا انداز ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا! خدا تعالیٰ کی ستاری کی بات کر رہے ہیں اور وہ بات بیان فرمارہے ہیں جو اللہ نے ڈھانپ کر بڑے پیار سے اپنے کسی بندہ سے کی ہے اور خود بھی سرگوشی کے انداز میں باتیں کر رہے ہیں ہلکی آواز میں ،ایک دبی دبی سی آواز میں بڑے پیار سے صحابہ کو یہ راز کی خبر سنا رہے ہیں کہ میں نے اللہ سے یہ پیاری بات سنی ہے اور میں تم تک پہنچاتا ہوں کہ قیامت کے دن خدا اس قسم کا معاملہ بھی فرمائے گا۔پس وہ شخص جو وہ بندہ بننا چاہتا ہے جس بندہ کا اس حدیث میں ذکر ہے اور جو چاہتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا سایہ اس کے سر پر دراز ہو جائے ، وہ بڑے پیار اور محبت سے قیامت کے دن اس سے فرمائے اور شروع میں تھوڑا سا ڈرا بھی دے کہ تو نے یہ کام کیا تھا لیکن اس رنگ میں کہے کہ اس یوم حشر میں کوئی اور نہ سن رہا ہو ، اسی سے پتہ چلتا ہے کہ ڈرانے کے لئے نہیں بلکہ ایک پیار کے انداز میں مغفرت کے اظہار کے طور پر بات ہو رہی ہے۔چنانچہ پوچھے کہ اے بندے ! تو نے یہ بھی کیا تھا، یہ بھی کیا تھا، یہ بھی کیا تھا، اور وہ اقرار کرتا چلا جائے اور پھر فرمائے کہ میں دنیا میں بھی تیری ستاری کیا کرتا تھا آخرت میں بھی تیری ستاری کروں گا۔لیکن دنیا میں کن کی ستاری کرتا ہے یہ مضمون پہلے آنحضور علیہ بیان فرما چکے ہیں، ان کی نہیں کرتا جو اپنے بھائیوں کی ستاری نہیں کرتے ان کی پردہ دری کرتا ہے جو اپنے بھائیوں کی پردہ دری