خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 501

خطبات طاہر جلد ۳ 501 خطبہ جمعہ کار ستمبر ۱۹۸۴ء وصول کئے گئے اور اخبار فخر کر رہے ہیں کہ دیکھو کتنا عظیم الشان کارنامہ ہے احمدی بر تن گندے کر گئے اور یہودی ، دہریہ، رشوت خوردن رات حرام کھانے والے ان برتنوں میں کھاتے پیتے گند کرتے اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔سارا نظام بگڑ گیا ہے، ساری فضا غیر منصفانہ ہوگئی ہے اور جب یہ باتیں باہر کی دنیا کو بتائی جارہی ہیں کہ دیکھو قابل فخر کارنامہ تو پھر یہ شکوہ ہے کہ تم ہمیں بدنام کرتے ہو۔کبھی نیک نامیوں سے بھی کوئی بدنام ہوا کرتا ہے؟ اور اگر نیک کام نہیں ہے تو جو باہر جا کر بد کام بن جاتے ہیں وہ ملک کے اندر کیسے نیک کام ہو گئے۔بجائے اس کے کہ طبیعت استغفار کی طرف مائل ہوتی اور توبہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے دن بدن یہ جحان بڑھ رہا ہے اور حکومت اس میں کھلم کھلا ذمہ دار ہے کہ زیادہ تنگ کرو، زیادہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بناؤ، زیادہ مصیبتوں میں مبتلا کرو تا کہ کسی طرح یہ تنگ آکر یا اپنا مذ ہب چھوڑ دیں اور یا پھر اس ملک میں اس طرح کی زندگی بسر کریں جیسے بے وطن ہو جاتے ہیں اور اسکی بڑی وجہ ایک خوف ہے۔حکومت کو دن بدن یہ خوف بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ ہم اتنے مظالم کر چکے ہیں یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ جماعت نے مقابل پر کوئی سکیم تیار نہ کی ہو۔ساری دنیا سے ٹو ہیں لی جارہی ہیں کہ اب یہ کیا کر رہے ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں اور چونکہ نظر کچھ نہیں آتا اس لئے اندازہ لگاتے ہیں کہ ضرور کچھ نہ کچھ کر رہے ہوں گے اس لئے اور مارنا چاہئے اور ابھی بھی چونکہ ہم نے اور مارا ہے اسلئے کوئی سکیم ان کے دماغ میں آگئی ہوگی اس لئے کچھ اور مارنا چاہئے تا کہ اٹھ ہی نہ سکیں۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے ایک اندھے نے اور ایک سو جا کھے نے مل کر مشتر کہ پیسوں سے ایک دفعہ مٹھائی خریدی۔جب وہ کھانے لگے تو کچھ دیر بعد اندھے کو خیال آیا کہ مجھے تو نظر نہیں آرہا ہو سکتا ہے یہ جو سو جا کھا ہے یہ تیز کھا رہا ہو اس لئے مجھے بھی تیز کھانا چاہئے تو اس نے بڑی تیزی سے کھانا شروع کر دیا اور کچھ دیر کے بعد اسکو یہ خیال آیا کہ وہ بھی تو تیز کھا رہا ہے اور میں بھی تیز کھا رہا ہوں وہ دیکھ رہا ہے میں دیکھ نہیں رہا کچھ اور شاید اس نے ترکیب کی ہو تو خیال آیا کہ دونوں ہاتھوں سے کھا رہا ہو گا چنانچہ اس نے فوراً دوسرا ہاتھ بیچ میں ڈالا اور فور آبیچ میں سے کھانا شروع کر دیا اور وہ جو دیکھ رہا تھا وہ ہنس کر ایک طرف ہو گیا تماشہ دیکھنے کے لئے کہ یہ کیا کر رہا ہے۔پھر حافظ جی کو خیال آیا