خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 498
خطبات طاہر جلد ۳ 498 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۸۴ء استعمال کرتے تھے اسکے بغیر چارہ نہیں تھا۔ شعر بھی وہیں سے لیتے تھے نثر بھی وہیں سے لیتے تھے لیکن اس زمانہ کا تو سارا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الزام کی جرات ہے کہ نعوذ باللہ حضرت رسول کریم ﷺ سے اپنے آپ کو افضل سمجھتے تھے۔ آپ یہ لکھتے ہیں کہ میرے صلى الله اصلى الله عروسه سے اعمال اگر کوہ ہمالہ کے برابر بھی ہوتے اور ایک معا اور ایک معاملے میں بھی میں حضرت محمد مصطفی علی روگردانی کرتا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان اعمال کی اتنی بھی قیمت نہیں تھی کہ جتنی ایک؟ کی ہوتی ہے وہ سارے اعمال اٹھا کر جہنم میں پھینک دیئے جاتے ۔ (تجلیات الہی روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲۰۴۱۱ ) یہ عظمت ہے اور یہ جلال ہے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کا آپ کے دل میں اور اس مبینہ مزعومہ وائٹ پیپر میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ دیکھ لو ثابت ہو گیا کہ نعوذ باللہ افضل سمجھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ بھی ایک الزام ہے کہ خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے، سارا پاکستان جانتا ہے ، یہ سب لوگ بھی جانتے ہیں خود کہ یہ جھوٹ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اپنے آنے کے دو مقاصد بیان کرتے ہیں ۔ ایک توحید کا قیام اور ایک بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی ۔ میں ان دو مقاصد کے لئے معبوث کیا گیا ہوں ۔ اور تمام کلام عظمت توحید سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق کے جو کلمات ہیں وہ اتنی قوت رکھتے ہیں اپنے اندر کہ عام سننے والا وجد میں آجاتا ہے۔ ایک دفعہ گورنمنٹ کالج میں نیو ہوسٹل کی بات ہے میں نے کشتی نوح پڑھتے پڑھتے وہ میں نے نماز کا وقت ہو گیا تھا اسی طرح رکھ دی جہاں وہ ذکر ہے ۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں ۔ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه: ۲۱) اور نماز شروع کر دی اتنے میں میرے ایک غیر احمدی دوست وہاں آئے اور انتظار میں انہوں نے وہ کتاب وہیں سے اٹھائی اور پڑھنی شروع کی اور ان سے برداشت نہ ہو سکا کہ میرا انتظار ہی کر لیں اونچی آواز سے جھومتے جھومتے وہ فقرے پڑھنے لگے اور ساتھ کہ حیرت انگیز کلام ہے، کس کا کلام ہے؟ اور نماز سے فارغ ہو کے میں نے انہیں بتایا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ہے تو کچھ تھوڑی سی اوس تو پڑی لیکن اسکے بعد پھر