خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 492

خطبات طاہر جلد ۳ 492 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۸۴ء کی رضا کے مطابق فیصلے کریں گے اور اسی کا نام شرعی عدالت ہے لیکن اگر کسی ملک میں نہ تو حکومت میں عدل پایا جاتا ہو اور نہ عدالت میں عدل پایا جاتا ہو اور حکومت ایک عدالت کو شرعی عدالت کہے اور عدالت ایک حکومت کو شرعی حکومت کہے تو اس سے تو وہی مثال سامنے آجاتی ہے کہ من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو کہ بھائی آؤ اتحاد کر لیتے ہیں۔ میں تمہیں حاجی کہتا ہوں تم مجھے حاجی کہا کرو دونوں کا کام بن جائے گا تو بعض ملکوں میں اسی قسم کی شرعی عدالتیں قائم ہیں نہ تو حکومت شرعی نہ انکی بنائی ہوئی عدالتیں شرعی اور دونوں ایک دوسرے کو شرعی قرار دے رہے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کی حکومت کا تعلق ہے اسکے انصاف کے کارنامے تو بہت ہی ایک وسیع مضمون ہے ، اس میں تو جہاں تک ملکی حالات کا تعلق ہے عام انصاف جس طرح بٹ رہا ہے اس پر میں کچھ لب کشائی نہیں کرنا چاہتا۔ سارا ملک جانتا ہے کہ وہاں انصاف کا کیا عالم ہے۔ انصاف بکتا ہے یا خریدا جاتا ہے یا ز بر دستی حاصل کیا جاتا ہے یا سفارش چاہئے انصاف کیلئے یا پولیس کا ڈنڈا چاہئے جو کچھ بھی حالات ہیں سارے ملک پر روشن ہیں اور کسی بحث کی ضرورت نہیں ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ انصاف کسی جانور کو کہا جاتا ہے لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ ہم پر گزر رہی ہے وہ ہم جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ اسکے متعلق میں چند باتیں یاد دہانی کے طور پر آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ قرآنی اصطلاح میں یہ حکومت کس حد تک شرعی حکومت کہلانے کے مستحق ہے اور ان سلطانوں کا نام اسلامی سلطان رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ایک حکومت جو انصاف پر قائم ہو اور حق پرستی کا اعلان کر رہی ہو وہ قانون بنا کر اپنے شہریوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرے۔ ایسی حیرت انگیز بات ایسا تضاد دنیا میں سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ اعلان یہ ہے کہ ہم حق پرست ہیں اور حق کی بنا پر جو کر رہے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ ہمارا ہر فیصلہ شریعت کے مطابق اور شریعت کے منشا کو پورا کرنے کی خاطر ہے اور فیصلہ یہ ہے کہ اگر تم نے جھوٹ نہ بولا تو تمہیں سزادی جائے گی۔ جو کچھ تم اپنے متعلق یقین کرتے ہو اگر اسکے برعکس بات نہ کہی تو نہ صرف قانون کی زد میں آؤ گے بلکہ بعض بنیادی شہری حقوق سے محروم کئے جاؤ گے مثلاً ان حقوق میں سے ایک ہے کہ ووٹ دینا اور اپنے حاکم کو چننے میں جو شہری حق ہے اس کا استعمال کرنا ۔