خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد ۳ 493 خطبه جمعه ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء قطع نظر اسکے کہ باقی کسی کو یہ حق نصیب ہوا ہے یا نہیں لیکن باقیوں کو کم از کم کاغذی حق تو نصیب ہے اس شرط کے ساتھ کہ اگر کبھی الیکشن ہوں اور اس شرط کے ساتھ کہ وہ الیکشن انصاف پر مبنی ہوں اور اس شرط کے ساتھ کہ اگر وہ انصاف پر مبنی ہوں تو ان پر عمل درآمد بھی ہو۔اگر باقیوں کو حق یہ نصیب ہے قانونی طور پر یا رسمی اور کاغذی طور پر تو ہمیں یہ بھی نصیب نہیں۔ایک بھی احمدی سارے پاکستان میں الیکٹوریٹ (Electorate) لسٹ پر نہیں ہے جس کو (Disenfranchisement) کہتے ہیں انگریزی میں یعنی حق انتخاب سے کلینتہ ہر احمدی کو محروم کر دیا گیا ہے۔وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب تک تم اپنے ضمیر کو نہیں کچلتے ، اپنے عقیدہ کے خلاف خود اپنے ہاتھ سے نہیں لکھتے کہ میرا عقیدہ وہ نہیں ہے یہ ہے اس وقت تک تمہیں ہم اس بنیادی حق کا حصہ دار قرار نہیں دے سکتے۔اور یہ جو چھری ہے یہ اتنی وسیع چل رہی ہے کہ ایک بھی سارے ملک میں ایسا شعبۂ زندگی نہیں جو اس چھری سے متاثر نہ ہوا ہو، جس میں احمدیوں پر ظلم کی یہ چھری نہ چلائی گئی ہو اور یہ چھری ایسی ہے جو ماضی میں جا کر بھی ذبح کرتی ہے صرف مستقبل میں نہیں۔یعنی چھری تو آج ایجاد ہوئی ہے لیکن ذبح کر رہی ہے گزشتہ سالوں میں جب کہ یہ چھری ابھی بنائی ہی نہیں گئی تھی۔جب بے انصافی ہو تو بچارے زمانہ سے بھی نا انصافی ہو جاتی ہے۔چنانچہ اب جو خبریں آرہی ہیں کہ بہت سے طلبا کو اس جرم میں کالجوں سے نکال دیا گیا کہ انہوں نے اس آرڈی نینس کے بننے سے پہلے، کہ جو احمدی اپنے آپ کو مسلمان لکھے گا اسکو یہ سزا ملے گی اس سے ایک سال پہلے ، یا دو سال پہلے یا تین سال پہلے اپنے آپ کو مسلمان کیوں لکھا تھا ؟ تو چھری تو بعد میں بنی اور ذبح پہلے کر رہی ہے اور یہ واقعات جو ہیں یہ نا انصافی کی دنیا میں ملتے ہیں۔اندھیر نگری جب ہو تو قانون ہی کوئی نہیں چلتا۔زمانہ بھی نہیں دیکھا جاتا حالات بھی نہیں دیکھے جاتے بس جس طرف بھی زور چلے اسی کا نام قانون بن جاتا ہے۔پھر ایسے احمدی موجود ہیں جنہوں نے پاسپورٹ پر قانون بننے سے پہلے اپنے آپ کو احمدی مسلمان لکھوایا۔بعض صورتوں میں لکھنے والے نے احمدی لکھ دیا اور مسلمان کاٹ دیا۔کسی شریف النفس کو خیال آیا کہ واقعی مسلمان ہیں کہتے ہیں تو میں کیوں نہ لکھوں اس نے مسلمان لکھ دیا اور یہ سارے