خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 490
خطبات طاہر جلد۳ 490 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء حکومت کس قسم کے عدل قائم کر رہی ہے جب یہ بات کھول دی جائے گی تو پھر سب کو پوری طرح پستہ چل جائے گا کہ ان فیصلوں کی حیثیت کیا ہے کیونکہ وقت نہیں ہے اس لئے میں انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبہ میں اس پہلو پر روشنی ڈالوں گا کہ جہاں تک عدل کا تعلق ہے واقعہ کیا ہوا ہے؟ یہ بحث تو صرف قانونی تھی کہ قرآن کیا حق دے رہا ہے اور کیا نہیں دے رہا؟ آئندہ خطبہ میں میں انشاء اللہ بتاؤں گا کہ عدل کیا کیا گیا ہے اور قرآن کی رو سے عدل کا کیا تصور قائم ہوگا اور یہ عدل دونوں پہلوؤں سے کیا حیثیت رکھتا ہے پاکستان میں عدلیہ کے لحاظ سے بھی اور حکومت کے لحاظ سے بھی۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: جماعت کے ایک بہت دعا گو صاحب کشف والہام بزرگ ماسٹر محمد بخش صاحب سولنگی وفات پاگئے ہیں اور ان کے بیٹے کا خط آیا ہے کہ ان کی بڑی گہری خواہش تھی جس کا بار ہا تذکرہ کر چکے تھے کہ ان کا جنازہ میں پڑھاؤں ویسے بھی چونکہ ان کا جماعت میں ایک خاص نیکی کا مقام ہے میری اپنی بھی یہ خواہش ہوتی کہ میں ان کا نماز جنازہ پڑھاؤں۔علاوہ ازیں ایک سلسلہ کے پرانے خادم سیالکوٹ کے جن کا سارا خاندان خدا کے فضل سے اخلاص میں بہت پیش پیش ہے مکرم خواجہ عبدالرحمان صاحب وہ بھی وفات پاگئے ہیں تو ان دونوں کی نماز جنازہ جمعہ کے بعد ہوگی۔