خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 487

خطبات طاہر جلد ۳ 487 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء یہ شیعہ حج ہیں یہ فیصلے دین گے کہ سنی ٹھیک ہیں یا شیعہ ٹھیک ہیں یا اہلحدیث کو چن لیں گے کہ وہ فیصلہ دیں بریلوی ٹھیک ہیں یا کہ اہلحدیث اور جب وہ اہلحدیث اور بریلوی ملا کر فیصلہ دیں اگر تو اول تو کسی اہلحدیث کو یہ قبول نہیں ہوگا نہ کسی بریلوی کو یہ قبول ہوگا کہ برابر کی تعداد میں دونوں حج فیصلہ دیں اور اگر شریعت کے معاملے میں اعتقادی لحاظ سے یہ مان لیا جائے تھوڑی دیر کے لئے کہ ایک عدالت قائم ہوگئی جس میں دو ان کے اور دوان کے نمائندہ ہو گئے تو جس وقت کوئی نمائندہ اگر وہ پہلے اہلحدیث تھا وہ بریلوی خیال کا اظہار کرے گا تو فوراً شور مچا دیں گے وہ لوگ کہ تم تو بریلوی ہو گئے ہو اس لئے عدالت کا تناسب بگڑ گیا۔اب تین بریلوی رہ گئے ہیں ایک اہلحدیث رہ گیا چار میں سے اور اگر کوئی بریلوی عالم جس کو عدالت میں بٹھایا گیا ہو وہ اہلحدیث کے حق میں فیصلہ دے تو کیا وہ سارا بریلوی فرقہ مان لے گا؟ ہر گز نہیں۔وہ کہیں گے یہ اہلحدیث ہو گیا ہے اس لئے اس کا فیصلہ قابل قبول نہیں۔تو حج جب بھی کوئی فیصلہ دے شریعت کے معاملے میں اعتقادی لحاظ سے اس کا فیصلہ اس فرقے قبول ہو ہی نہیں سکتا نہ بھی ہوا ہے آج تک۔چنانچہ اگر یہ عدالت مثلاً احمدیوں کے حق میں کوئی فیصلہ دیتی تو لوگوں نے کہنا تھا کہ یہ تو احمدی ہو گئے ہیں ان کو فارغ کرو ایک اور عدالت بٹھاؤ کیونکہ انہوں نے جب احمدی عقیدہ مان لیا تو یہ تو پارٹی بن گئے۔یہی وجہ ہے کہ عدالت بار بار یقین دلاتی رہی اپنے مولویوں کو دیکھ دیکھ کر کہ ہم پانچوں کا سو فیصدی عقیدہ ہے کہ احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں گویا اپنا پارٹی ہونا تسلیم کر لیا تو جب تم چلے ہی اس مفروضے سے ہو کہ تم ایک پارٹی ہو تو تمہارا عدلیہ کا حق کہاں رہا باقی ؟ پارٹی تو فیصلے نہیں دیا کرتی اس لئے مذہبی امور میں کوئی عدالت قائم ہو ہی نہیں سکتی سوائے نبی کی عدالت کے جو خدا سے علم پا کر فیصلہ دیتا ہے۔جونبوت کا دعویدار نہ ہو وہ عدالت قائم نہیں کر سکتا اور نبوت کا فیصلہ خدا آپ ہی منواتا ہے پیچھے پڑ کر ، زبر دستی آسمان کی قضا نازل ہو کر منواتی ہے اس لئے کوئی مانے نہ مانے وہ منوایا جاتا ہے لیکن دنیا کی عدالتوں کے فیصلے تو منوانے والا ہوتا ہی کوئی نہیں ، دو چار دن کسی کا ڈنڈا چل گیا دو چار دن کسی اور کا ڈنڈا چل گیا یہ اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے دنیا میں۔اس لئے شرعی عدالت میں اعتقادی امور میں ، یہ بار بار میں کہہ رہا ہوں اعتقادی امور میں، ایک مذہب کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے کسی کو سوائے نبی کے اختیار نہیں ہے یا اس کی نمائندگی میں اگر برحق نمائندہ ہو اس کے خلفا تک