خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد۳ 484 ابو موسیٰ سنائے بعد میں میں سناؤں گا اسی میں سارا وہ داؤ کھیل گئے۔خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء انہوں نے اپنے آدمی کو معزول کر دیا میں بھی اس کو معزول کرتا ہوں لیکن اپنے آدمی معاویہ کو برقرار رکھتا ہوں وہ امیر المومنین عثمان کے ولی اور ان کے قصاص کے طالب ہیں اس لئے ان کی قائمقامی کے یہ سب سے زیادہ مستحق ہیں۔یہ فیصلہ جب ہوا تو آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا جو فیصلہ نامہ میں دخل دے کر اس میں احتیاطی پہلو کو اختیار کرنا تھا وہ موقع پر کام آ گیا۔اگر وہ عبارت حضرت علی بیچ میں نہ لکھواتے تو بہت خطرناک فساد پیدا ہو جانا تھا اگر خلافت کا مسئلہ بھی اُٹھ کھڑا ہوتا اور پھر حضرت علی اگر مانتے تو حیرت انگیز بات ہوتی کہ خدا کا مقرر کردہ خلیفہ ایک انسان کے بنائے ہوئے خلیفہ کے سامنے سر جھکا رہا ہے اور نہ مانتے تو نعوذ باللہ جھوٹے کہلاتے کہ عہد کیا ، عدالت میں پیش ہوئے اور پھر فیصلے کا انکار کر کے باہر آ گئے۔حضرت علی کا تبصرہ اس پر سنئے۔جنہیں حکم بنایا تھا، انہوں نے اپنے نفس کی پیروی کر کے کتاب اللہ کے خلاف فیصلہ کیا اس لئے ہم نے اس فیصلہ سے براءت ظاہر کی اور اب پھر اپنی پہلی حالت پر آگئے۔کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ میں نے سرپنچوں سے شرط لی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں گے۔میں نے تم کو اسی وقت آگاہ کر دیا تھا کہ تحکیم کی تجویز محض فریب ہے لیکن تم ہی نے اس کو قبول کرنے پر اصرار کیا۔میں نے اسی شرط پر اسے منظور کیا تھا کہ دونوں حکم اس چیز کو زندہ کریں گے جسے قرآن نے زندہ کیا ہے اور اس کو ختم کریں گے جسے قرآن نے ختم کیا ہے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لئے اس شرط کے مطابق یہ فیصلہ قابل قبول نہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اور قرآن کو ایک بڑے فتنے سے بچالیا اور آئندہ کے لئے شرعی عدالتوں کی حیثیت کو ہمیشہ واضح فرما دیا۔اب کبھی بھی اس بات میں کسی مسلمان کے لئے اشتباہ کی گنجائش نہیں خواہ وہ خلافت کا قائل ہو خواہ وہ سلطانی کا قائل ہو اور وہ سلطان جسے دوسرے تسلیم نہ