خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 485 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 485

خطبات طاہر جلد۳ 485 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء کرتے ہوں یہ بحث نہیں ہے وہ جسے خود تسلیم کرتے ہوں ان کے فیصلوں اور ان کے بنائی ہوئی عدالتوں کے اوپر بھی اب یہی فیصلے چلا کریں گے ہمیشہ کیلئے اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں چلے گا ورنہ نہ وہ سلطانی کے قائل رہیں گے نہ وہ خلافت کے قائل رہیں گے۔تو تاریخ اسلام کا ایک ہی وہ مقام ہے جہاں خلافت اور سلطانی کا سنگم ملتا تھا اور اس مقام پر ایک شرعی عدالت قائم ہوئی تھی اس شرعی عدالت کی کیا حیثیت تھی یہ ہمیشہ کے لئے بات کھل چکی ہے اور اس سے بڑھ کر اس شرعی عدالت کو کوئی حیثیت نہیں دی جاسکتی ، اس سے بہت ادنیٰ حیثیت ہے، نہ ان کا فقہ کا وہ مقام، نہ انہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ سے تربیت پائی، اپنے علم ، اپنے مرتبہ، اپنی حیثیت ، اپنے تقوی کسی لحاظ سے بھی اگر کہا جائے کہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگا تیلی تو ان کو اس سے ناراضگی نہیں ہوگی۔مجھے یقین ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اپنا مقام اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مقام سمجھتے ہیں اور اس کے مقابل پر ان کی قائم کردہ عدالت کو دیکھ کر یقیناً کہیں گے کہہ اس مثال سے بھی ہماری عزت افزائی ہوئی ہے راجہ بھوج سے گنگا تیلی کو یا گنگو تیلی کوکوئی نسبت تھی لیکن ہمیں تو ابو موسی اشعری اور عمرو بن العاص سے تو وہ بھی نسبت نہیں اگر ان میں کچھ تقوی ہو تو یہ بات مانیں گے تو جو ان کی حیثیت نہیں تھی وہ تمہاری حیثیت کہاں سے ہو گئی ؟ جو قرآن اور سنت نے ان کو اختیار نہیں دیا تھا وہ تمہیں کہاں سے اختیار حاصل ہو گیا ؟ اب ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شرعی عدالت کا جو دائرہ کار ہے اس کے لحاظ سے شرعی عدالت ، عدالت تو جیسا کہ بیان کیا ہے یہ نام ہی فرضی ہے کوئی حقیقت ہی نہیں اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے ہی نہیں۔حکم ہو سکتے ہیں لیکن حکم میں تو فریقین ہونے چاہئیں لیکن جو بھی مزعومہ طور پر شرعی عدالت قائم کی بھی جائے تو میں اس لحاظ سے شرعی عدالت کہہ رہا ہوں یہ نہیں کہ مجھے تسلیم ہے یہ کوئی شرعی عدالت ، تو شرعی عدالت کے دو طرح کے دائرہ کار ہیں ایک ہے دنیاوی امور اور معاملات میں فیصلہ کرنا اور ایک ہے اختلافی امور یعنی عقائد کے لحاظ سے فیصلہ دینا۔جہاں تک معاملات کا تعلق ہے اس کی تو اس واقعہ سے کچھ سند حاصل کی جاسکتی ہے جو میں نے بیان کیا لیکن اعتقادی امور میں تو کسی شرعی عدالت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اعتقادی اختلافات میں تو صرف ایک فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ اللہ ہے اور اس کی عدالت قیامت کے دن لگے گی۔