خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 483

خطبات طاہر جلد ۳ ۔ 483 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء امیر اور حکم کے امیر یا حکم مر جائے تو اس کی جماعت کو اس کی جگہ دوسرے امیر اور انتخاب کا حق حاصل ہوگا، دونوں حکموں کی جان اور مال محفوظ رہے گا۔ رمضان تک فیصلہ کا اعلان ہو جانا چاہئے لیکن اگر حکم اس میں کچھ تاخیر کرنا چاہیں تو اس مدت میں توسیع کر سکتے ہیں۔ اب سنئے فیصلہ ! جیسا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا وہی واقعہ ہوا حضرت ابوموسیٰ اشعری نے حضرت ایک بات طے کی اپنے ساتھی حکم سے اور سادگی میں الگ الگ فیصلہ سنایا دونوں نے اور ابو موسیٰ کو کہا عمرو بن العاص نے کہ پہلے تم فیصلہ سنا دو میں بعد میں سناتا ہوں اور سنئے ابو موسیٰ اشعری کا سادگی کا فیصلہ بالکل درست ہے اس لحاظ سے کہ دونوں کا فیصلہ یہ تھا یہ درست ہے بات لیکن فیصلہ فی ذاتہ شریعت کے خلاف ہے وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکے ۔ اما بعد ، لوگو! ہم نے اس مسئلہ پر غور کیا، اس امت کے اتفاق اور اتحاد اور اصلاح کی اس کے علاوہ اور کوئی صورت نظر نہ آئی کہ علی اور معاویہ دونوں کو معزول کر کے خلافت کو شوری پر چھوڑ دیا جائے“۔ حالانکہ خلیفہ برحق اگر دونوں میں سے کوئی ایک تھا تو اس کو تو معزول کر ہی نہیں سکتا انسان ۔ وہ تو خدا کی پہنائی ہوئی چادر ہے اور اگر تھا ہی نہیں تو معزول کس کو کر رہے ہو؟ پھر کوئی اور ہونا چاہئے ۔ موجود ہوگا کوئی اور تو شریعت کے لحاظ سے تو کوئی یہ فیصلہ نہیں ہے لیکن اس لحاظ سے ضرور ہے کہ دونوں کا متفقہ یہی فیصلہ تھا۔ وو ” عام مسلمان جسے اہل سمجھیں اسے منتخب کر لیں اس لئے میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرتا ہوں آئندہ تم جسے پسند کرو اپنا خلیفہ بناؤ۔ ارض یہ تو فیصلہ ہو گیا حضرت ابو موسی کا اب عمر و بن العاص کی باری آئی ان کا فیصلہ سنئے : رض اما بعد لوگو! ابو موسیٰ کا فیصلہ آپ لوگوں نے سن لیا انہوں نے اپنے 66 آدمی کو معزول کر دیا میں بھی اس کو معزول کرتا ہوں۔ جو ڈر تھا حضرت علی کو وہی ہوا کہ وہ بہت ہوشیار آدمی ہے یہ سادہ آدمی اس کو بنا دے گا اور بجائے اس کے کہ متفقہ فیصلہ لکھ کر اکٹھے دستخط کرتے اور وہ سنایا جاتا الگ الگ فیصلہ اور پھر پہلے