خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد ۳ 482 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء وہی بات فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ سنت رسول اللہ کے مطابق جو فیصلہ کر دیں گے وہ فریقین کے لئے واجب التسلیم ہوگا“۔اس میں کسی خلیفہ کا حوالہ بھی نہیں آیا پہلے حالانکہ تین خلفا گزرچکے تھے، کسی اور عالم کے حوالے کو تسلیم نہیں کیا گیا صرف قرآن اور سنت ہی کافی ہے اس کے بغیر ہم فیصلہ نہیں مانیں گے۔جو فیصلہ کر دیں گے وہ فریقین کے لئے واجب التسلیم ہوگا یہ الفاظ ہیں : اور جو فریق اس کے ماننے سے انکار کرے گا حکم اور عام مسلمان کروائے۔اس کے خلاف دوسرے فریق کو مدد دیں گے“۔لیکن شروع ہو جاتا ہے یہ وہ فقرے ہیں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خود داخل دد لیکن اگر یہ فیصلہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے خلاف ہو یا اس میں کسی فریق کی جنبہ داری پائی جائے ( یعنی عدل نہ ہو ) تو اس کی پابندی ضروری نہیں ہوگی۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بہت گہری قرآن کی فراست تھی، اتنی حیرت انگیز کہ آپ کے اقوال تفاسیر کے مضمون پر ملتے ہیں ان کو آپ پڑھیں تو ایک خزانہ ہے، ایک سمندر ہے موتیوں کا چنانچہ یہ دونوں باتیں لکھوانا عین قرآن کے مطابق تھا گویا جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ شرعی عدالت ان معنوں میں قائم ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کا فیصلہ ہر فریق کو پابند ہو خواہ وہ فریق خود قرآن کی وہ تشریح نہ سمجھتا ہو جب تک اس کا دل مطمئن نہ ہو جائے اس فیصلے کوسن کر کہ قرآن واقعی یہ کہ رہا ہے اس وقت تک وہ پابند نہیں ہو گا کسی فیصلہ کا تو گویا شرعی عدالت کی حیثیت صرف مشیر کی ہوگی اس سے زیادہ تو حیثیت ہی کوئی نہ رہی۔جتنے اختیارت اس کو دے بیٹھے تھے وہ اگلے فقرے نے سارے چھین لئے۔ایسی صورت میں ہر فریق خود اپنا فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہوگا فیصلہ کے اعلان تک جنگ بالکل ملتوی رکھی جائے گی اور کامل امن وامان قائم رہے گا۔اگر فیصلہ کے اعلان سے قبل دونوں امیروں یا حکموں میں سے کوئی