خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد۳ 480 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء ایک انتہائی دردناک واقعہ ہے۔آنحضور ﷺ کے وصال کو ایک صدی تو کیا ایک نصف صدی بھی نہیں گزری تھی کہ اس قسم کے شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔شامی فوج جوز زیادہ تر خارجیوں پر مشتمل تھی وہ حضرت معاویہ کی حمایت کر رہی تھی اور اہل مدینہ اور دوسرے مسلمان جو زیادہ نسبتاً تربیت یافتہ تھے، آنحضرت ﷺ کو قریب سے دیکھا تھا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تھے۔عین میدان جنگ میں جب عمرو بن العاص جو اس وقت معاویہ کے ساتھ لڑ رہے تھے انہوں نے یہ دیکھا، بڑے ہوشیار آدمی تھے کہ حضرت علی کی فوج کا پلہ بھاری ہو گیا ہے تو انہوں نے یہ ترکیب پیش کی کہ کیوں نہ قرآن کریم کو حکم بنایا جائے کیونکہ قرآن کریم خود کہتا ہے کہ اختلافات کی صورت میں قرآن کی طرف معاملے لوٹاؤ: فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (النساء: ۶۰) اگر چہ بات بہت اچھی کی گئی تھی لیکن اس کے پیچھے فتنہ مقصد تھا اور جب ان کو یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید مسلمان اس بات کو تسلیم نہ کریں۔یعنی حضرت علی کا کیمپ اس کو تسلیم نہ کرے حالانکہ قرآن کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس خیال سے کہ اس میں نیت گندی ہے ، نام تو بہت پاکیزہ ہے لیکن نام لینے والوں کی نیت بہت گندی ہے۔دوسرے دن انہوں نے یہ ترکیب کی کہ خارجی لشکر نیزوں پر قرآن کریم اٹھالایا اور نعرے لگانے لگا کر قرآن کریم کوحکم بناؤ قرآن کریم کوحکم بناؤ۔اس کا اتنا جذباتی گہرا اثر پڑا حضرت علی کے ساتھیوں پر کہ بھاری اکثریت ان کی اس سے اثر انداز ہو کر یہ کہنے لگ گئی اور مطالبہ کرنے لگ گئی کہ ہاں لازماً قرآن کو حکم بنایا جائے گا لیکن کیسے حکم بنایا جائے گا؟ اب یہ سب سے مشکل امر جو تھا یہ در پیش آیا۔چنانچہ دونوں کے درمیان ایک طریق کار طے ہوا اور ثالثی لکھی گئی یعنی صرف شرعی عدالت ہی نہیں بنائی گئی بلکہ فریقین نے ثالثی نامے کے طور پر اپنا اپنا نمائندہ اس شرعی عدالت میں مقرر کیا۔یہ جو شرعی عدالت ہے اس میں تو کوئی احمدی نمائندہ نہیں تھا لیکن میں یہ بتاؤں گا کہ نمائندہ ہوتا بھی تب بھی کیا شکل بنتی ؟ اس شرعی عدالت کا تو صرف یہ حال ہے جیسے غالب نے کہا تھا: پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا (دیوان غالب صفحه : ۸۰) یعنی یک طرفہ عدالت اور میں آگے اس گفتگو کو بڑھاؤں گا تو پتہ چلے گا کہ شرعی عدالت