خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 470

خطبات طاہر جلد ۳ 470 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء کرے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے جب یہ فرمایا جہاں یہ فرمایا ہے کہ شیر ہبر کی طرح ابتلا نازل ہوتا ہے اس وقت مجھے بھی تعبیر سمجھ آئی کہ مراد یہ ہے کہ یہ ابتلا جو شیر بر کی طرح نازل ہو رہا ہے گویا کھا جائے گا اور ہلاک کر دے گا یہ ابتلا خود ہلاک ہونے والا ابتلا ہے۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر یہ ابتلا درمیان میں نہ ہوتا تو ابنیاء اور اولیاء ان مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پاسکتے کہ جو ابتلا کی برکت سے انہوں نے پالئے۔اجتلانے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگادی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور بچے وفا دار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اورا کیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی اور تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مهربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلا نازل ہوا۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب اور شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اسی قدرا نکی ہمت بلند اور شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔بالآخر وہ ان تمام