خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد ۳ 470 خطبه جمعه ۲۴ را گست ۱۹۸۴ء کرے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے جب یہ فرمایا جہاں یہ فرمایا ہے کہ شیر ببر کی طرح ابتلا نازل ہوتا ہے اس وقت مجھے صیح تعبیر سمجھ آئی کہ مراد یہ ہے کہ یہ ابتلا جو شیر ببر کی طرح نازل ہو رہا ہے گویا کھا جائے گا اور ہلاک کر دے گا یہ ابتلا خود ہلاک ہونے والا ابتلا ہے۔ پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر یہ ابتلا درمیان میں نہ ہوتا تو ابنیاء اور اولیاء ان مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پاسکتے کہ جو ابتلا کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ ابتلا نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور سچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی اور تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلا نازل ہوا۔ غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت وسختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب اور شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر ا نہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اسی قد را نکی ہمت بلند اور شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔ بالآخر وہ ان تمام