خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد ۳ 469 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء سخت سخت آزمائشیں وارد ہوں اور ان کے پیرو اور تابعین بھی بخوبی جانچے اور آزمائے جائیں تا خدا تعالیٰ بچوں اور کچوں اور ثابت قدموں اور بزدلوں میں فرق کر کے دکھلا دیوے گا۔“ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد که بیرونی بود پھر فرماتے ہیں: یہ ابتلا اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام ونشان مٹادیوے کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ خدا وند عز وجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے اور وفا دار عاشقوں کو ذلّت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلا کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچا دے اور الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھا دے۔یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔“ سبز اشتہار روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۵۷ - ۴۵۸) یہاں جو شیر بر کی طرح ابتلا کے آنے کا ذکر ہے اس ضمن میں مجھے دوخوا میں بھی یاد آ گئیں جو پاکستان سے دو مختلف بزرگوں نے لکھ کر بھیجیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہ ایک عجیب خدا تعالی کی طرف سے توارد ہو رہا کہ ایک ہی مضمون کی خوا ہیں جو آگے پیچھے پہلے نہیں آیا کرتی ہیں لوگوں کو وہ ایک ہی دن مجھ تک پہنچتی ہیں اور پھر وہ اکٹھا مضمون ظاہر ہو کر پھر اس کے بعد مضمون بدل جاتا ہے پھر ایک اور مضمون کی خواہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔تو ایک ہی ان دو مختلف بزرگوں نے خواہیں دیکھیں کہ شیر بر کو مارا ہے انہوں نے اور خواب کی طرز ایسی تھی جو ان کے لئے حیرت انگیز تھی۔اور شیر کو پھر وہ بعض جگہ بند کیا ہے اور جب وہ انہوں نے دیکھا ہے وہ خود ہی مر چکا ہے اور ایک جگہ اس ویسے مارا ہے۔علم تعبیر کی رو سے فاسق اور فاجر حاکم کو بھی شیر کہا جاتا ہے جو ظلم کی راہ اختیار