خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 464
خطبات طاہر جلد ۳ 464 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء وہاں خدا کے فضل سے قائم ہوگئی ہے اور 16 سے 31 جولائی یعنی پندرہ دن میں 81 بیعتیں ہوئی ہیں نا یجیریا میں جو گزشتہ رجحان کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ رجحان بلندی کی طرف مائل ہے۔یوگنڈا میں پچھلے دو سال کے اندر 23 نئی جماعتیں قائم ہوئی تھیں لیکن گزشتہ چند ماہ سے وہاں کمزوری آگئی ہے سنتی آگئی ہے اس لئے یوگنڈا کو توجہ کرنی چاہئے۔وہ اپنے پہلے Momentum کو قائم رکھیں ورنہ پھر وہیں اگر جماعتوں کو اسی حالت میں نیند آگئی تو پھر دوبارہ جگانا مشکل ہو جائے گا۔چنانچہ وہاں سے دو دو، چار چار، پانچ پانچ بیعتوں کی تو اطلاعیں تو مل رہی ہیں مختلف علاقوں سے مثلاً کمپالا سے دو ہوئیں یا محمد علی صاحب کائرے جہاں ہیں وہاں سے اطلاع مل رہی ہے لیکن جو پہلے رو چلی تھی وہ اب رو والی شکل نہیں رہی۔تنزانیہ میں خدا کے فضل سے مورو گور و مشنری ٹرنینگ کالج کا افتتاح ہو گیا ہے اور ایک خوشکن رپورٹ یہ بھی ہے کہ 51 افراد غیر مسلموں میں سے اسلام میں داخل ہوئے ہیں جو پہلے اپنی بدقسمتی کے نتیجہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات مبارک سے پر خاش رکھتے تھے اور نفرت رکھتے تھے اور اب ایسی محبت میں ان کی حالت بدل گئی ہے کہ دل و جان نچھاور کر رہے ہیں۔نئے ممالک میں جماعتوں کے قیام کا منصوبہ جو بنایا گیا تھا سب ممالک کے سپر د کئے گئے تھے کہ تم نے فلاں ملک میں نئی جماعت قائم کرنی ہے۔اس میں بہت سے لوگ سستی سے کام لے رہے ہیں اور با قاعدہ رپورٹیں نہیں بھیج رہے تو ان کا اگر یہ خیال ہو کہ میں بھول جاؤں گا یہ غلط ہے۔یہ تو میری زندگی کا مقصد ہے میں کیسے بھول سکتا ہوں۔میں نے توجہ دلائی ہے تبشیر کو کہ بار باران کولکھ کر پوچھیں اور وہ خود بھی خیال کریں اور آپ کے انگلستان کی طرف سے بھی اس بارہ میں کوئی رپورٹ نہیں مل رہی حالانکہ یہاں تو دو ہفتے کا کیا سوال ہے ہر چوتھے پانچویں دن تبلیغی صورت حال کے متعلق رپورٹ مل سکتی ہے۔تو ہر ملک کے امیر کو چاہئے کہ وہ ہر رپورٹ میں لازماً ذکر کرے کہ اس مہینے میں کتنے احمدی ہوئے ہیں مقامی طور پر سال سے اب تک کتنے ہوئے ہیں اور نئے ممالک جو سپرد کئے گئے تھے ان میں سے کن ممالک میں خدا کے فضل سے پودا لگا ہے۔اور نئی جماعتیں بنانی تھیں یہ بھی ایک سکیم کا حصہ تھا۔تو تمہاری جماعتیں اگر سو (100) ہیں تو ان کو ڈبل کرو دوسو (200) کرو۔بعض بڑے اچھے مبلغ ہیں جو توجہ سے ان باتوں کی طرف رپورٹیں کرتے ہیں اور بعض