خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 451
خطبات طاہر جلد ۳ 451 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۸۴ء زیادہ ہیں ، رشوت یہ نہیں لیتے ظلم اور سفاکی سے یہ کام نہیں لیتے ، عدالتوں میں جھوٹ یہ نہیں بولتے تو لوگ جب ہم سے پوچھیں گے کہ تم غیر مسلم کہہ رہے ہو ان کا عمل مسلمان کہہ رہا ہے اپنے آپ کو تو ہم کیا جواب دیں گے؟ انہوں نے کہا بہت اچھا پھر بنا کر دکھاتے ہیں غیر مسلم ۔ چونکہ ہم نے کہہ دیا ہے اس لئے بداعمالیاں جب تک تم نہیں کرتے اور اسلام سے انحراف نہیں کرتے اور قرآن کو نا قابل عمل کتاب تسلیم نہیں کرتے اپنے لئے اور یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ جو کچھ بھی اسلام نے کہا ہے تم اس کا برعکس کرو گے اس وقت تک ہم تمہیں اجازت نہیں دے سکتے۔ تو یہ معاملہ تو پھر یہاں تک نہیں ٹھہرے گا صرف چار باتیں تو اسلام نے نہیں کہیں ۔ قدر اشتراک تو پھر بہت بڑھے گی پھر تو ہر احمدی سے زبردستی قتل کروانے پڑیں گے کیونکہ اسلام مقتل سے روکتا ہے اور یہ قانون بنانا پڑے گا کہ جو قتل نہیں کرے گا احمدی اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ اسلام سے مشابہ ہو رہا ہے۔ اگر جان بچانی ہے کسی احمدی نے تو وہ قتل کرے تا کہ مسلمانوں کے مشابہ نہ ہو، جو سچی گواہی احمدی دیتا ہے اسے پر جری (Perjury) کے جرم میں سزاملنی چاہئے جھوٹی شہادت کے جرم میں کیونکہ وہ مسلمانوں جیسی حرکت کر رہا ہے اور جو جھوٹ بولتا ہے عدالت میں وہ جزاک اللہ بہت اچھی حرکت کی اس نے مسلمان نہیں بنا، حالانکہ بیچاروں کو یہ نہیں پتا کہ آج کل جو عام حالات ہیں ان میں جھوٹ بولنے والے مسلمان زیادہ ہیں اور اس میں کوئی تکلیف والی بات نہیں واقعہ یہی ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں جتنا جھوٹ بولا جا رہا ہے ساری دنیا کو پتہ ہے ، سارے حج جانتے ہیں ، سارے وکلا کو پتہ ہے، پولیس جس قسم کے کیسز بنا رہی ہے تو آپ نے اسلام سے روک کر ہمیں مشابہ بنا دیا ہے غلطی سے یہ بات آپ کو خیال نہیں آئی کہ ہم نے جس بات سے روکا تھا اس لئے کہ اسلام کے مشابہ نہ ہو جائیں ہم تو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر ان کو مسلمانوں کے مشابہ بنا رہے ہیں۔ پہلے تو ایک فرق نظر آ جاتا تھا اب آپ کہتے ہیں وہ فرق بھی نہیں رہنے دینا تو جس طرح مرضی ہاتھ ڈالیں وہ کامیاب ہو نہیں سکتے ، اُلٹے نتیجے نکلیں گے۔ بہر حال اصل جو میدان ہے وہ تو دعا کا میدان ہے ان لوگوں نے جو حرکتیں کرنی ہیں کر چکے کچھ کریں گے اور معاملے تو وہاں تک پہنچا رہے ہیں جیسا کہ میں نے بار بار متنبہ کیا ہے اسکے بعد خدا کی تقدیر لاز مادخل دیا کرتی ہے۔ اس قسم کے تمسخر جب شروع ہو جائیں دین سے اور دین کی