خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 450
خطبات طاہر جلد ۳ 450 خطبه جمعه ۷ ار ا گست ۱۹۸۴ء لئے آپ ہمارے عقیدہ پر جو مرضی حملہ کریں ہمارے لئے یا تو کوئی شریعت بھی بنا کر دیں نا ایک کہ ہم چونکہ تمہیں غیر مسلم کہتے ہیں اسلام پر عمل نہیں کر سکتے اور اب فلاں شریعت تمہارے لئے بنائی جاتی ہے اور چونکہ قدر اشتراک تکلیف دہ ہے کہ فلاں چیز فلاں سے ملنی نہیں چاہئے ،تمہاری کوئی بات مسلمانوں سے ملنی نہیں چاہئے یہ بنیاد بنائی گئی ہے کیونکہ مانی نہیں چاہئے اس لئے کوئی نئی شریعت بنا کے دکھا ئیں کوئی۔اس کے متعلق پہلے بھی میں ذکر کر چکا تھا تفصیل سے کہ ہر جگہ جہاں اسلام نے کوئی حکم دیا ہے وہاں منفی بنا ئیں گے تو شریعت بنے گی ورنہ جہاں مثبت کے ساتھ کوئی مثبت مل گیا وہاں آپس میں اتفاق ہو جائے گا اور پھر لوگ کہنے لگ جائیں گے کہ دیکھو یہ مسلمانوں والی بات ہے اور جہاں منع کیا ہے قرآن کریم نے وہاں پر منا ہی پہ مثبت ڈالنا پڑے گا ورنہ ملنے جلنے لگ جائے کی ہماری شریعت اور تمہاری شریعت ، ظاہر بات ہے۔اس لئے یہ کوئی طریق ایجاد کرنا پڑے گا صرف یہ ایک فیصلہ کافی نہیں یہ کہ اسلام حق نہیں دیتا تمہیں، یہ طریق ایجاد کرنا پڑے گا کہ جس کو اسلام، اسلام پر عمل کرنے کا حق نہیں دیتا اس کے لئے شریعت کیسے بنائی جائے گی ؟ جب اسلام پر عمل کرنے کا حق نہیں دیتا تو اس کا منفی خود بخو دثا بت ہو جاتا ہے اس کو حکم دیتا ہے کہ ہر غیر اسلامی حرکت کر واس ملک میں جس ملک میں یہ قانون بنایا گیا ہے اور اس پر دل راضی ہوں گے اور اگر کوئی اسلامی حرکت کر بیٹھے تو آگ لگ جائے گی اور یہی آگ ہم تمہیں لگانے کی کوشش کریں گے۔یہ فیصلہ بنتا ہے شریعت کورٹ کا کہ چونکہ قدر اشتراک کی اجازت نہیں دے سکتے اس سے شبہ پڑتا ہے لوگوں کو کہ تم مسلمان ہو اس لئے مجبوری ہے اشتراک نہیں ہم ہونے دیں گے۔چار چیزوں میں حکومت نے اشتراک منع کر دیا باقیوں میں قرآن کریم بھی پھر منع کرے گا اگر قرآن کریم کے اوپر مسئلہ ہے۔اگر انحصار تھا ہی قرآن کریم پر تو یہ اصول پہلے ثابت کرنا پڑے گا کہ اسلام اچھی باتوں میں یا احکامات میں اشتراک کی اجازت نہیں دیتا۔اصل بات یہ ہے ، خلاصہ کلام یہ کہ ساری مصیبت ان کو اس بات پر پڑی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کو غیر مسلم کہہ بیٹھے ہیں اور غیر مسلم کہنے کے بعد ان کے اطوار، ان کا اٹھنا بیٹھنا، اُن کی عبادتیں ، ان کا عمل قرآن کریم کے احکام پر ، مناہی سے رکنا، اُن کو یہ نظر آنا شروع ہو گیا کہ جن کو ہم مسلمان کہتے ہیں ان سے بھی بہتر ہیں اس معاملہ میں۔نمازیں یہ زیادہ پڑتے ہیں، دیانت داریہ