خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 447
خطبات طاہر جلد ۳ 447 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۸۴ء مجیب الرحمن صاحب کا جس میں دشمن بھی اس معاملہ میں عش عش کر اٹھا اور جو رپورٹیں مخالفین اور معاندین کی باہر ملتی تھیں وہ بلا استثنا یہی کہہ رہے تھے کہ جیتیں گے، ہم فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا لیکن دلائل میں احمدیوں کے وکیل کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ وہ لے گیا بازی اور Panic ڈالتے تھے مولوی اور کہتے تھے کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ کچھ کرو کہیں سے کچھ نکالو۔ تو جو خلق خدا کی آواز ہے وہ تو خدا والوں کے ساتھ ہی ہے اور جو حکومت والوں کی آواز ہے اس نے حکومت کے ساتھ ہی ہونا ہے ظاہر بات ہے اس میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چنانچہ میں نے شروع میں ہی ان کو لکھ دیا تھا کہ: ه قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں (دیوان غالب صفحه : ۱۵۹) جو انہوں نے کہنا ہے تمہیں پہلے ہی پتہ ہے۔ تمہارا مقصد ہی کچھ اور تھا وہ مقصد خدا کرے حاصل ہو جائے پورے کا پورا مگر یہ ان کو ضرور بتا دو کہ تمہاری شرعی حیثیت کوئی نہیں ہے اور یہ بھی بتا دو کہ اصل اپیل ہماری سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ خدا کی عدالت میں ہو گی اور خدا فیصلہ کرے گا اور یہ بھی ان کو بتا دو کہ آج جو تم وقتی تاثرات کے تابع فیصلے کرو گے اس سے اسلام کی ایک نہایت ہی خوفناک اور مضحکہ خیز تصویر بھی دنیا کے سامنے ابھر سکتی ہے اور دنیا یہ کہے گی کہ پاکستان کی شرعی عدالت میں قرآن کا یہ تصور پیش کیا گیا تھا اور انسانی حقوق کا یہ تصور پیش کیا گیا تھا اس لئے صرف یہ سوال نہیں ہے کہ انسانوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے اور ان کے بنیادی حقوق کیا ہیں؟ اس لئے تم خدا کے سامنے جواب دہ ہو گے اور ہم بھی خدا کے پاس ہی اپیل کریں گے اگر تم نے کوئی ناجائز اور ظالمانہ فیصلہ کیا۔ یہ تو وار ننگ انہوں نے دی ہوگی کیونکہ میں نے واضح طور پر ان کو ہدایت کی تھی کہ میں نے آپ کو اجازت تو دی ہے مشروط لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ باتیں آپ عدالت کو صاف کھول کر بتا دیں اور تفصیلی کاروائی کچھ آئی تو ہے میرے پاس جو انہوں نے اپنی یاد داشت سے لکھی ہے ہمارے نمائندوں نے وہ میں پڑھوں گا امید ہے ہمارے وکلا نے ضرور یہ بتا دیا ہو گا بہر حال اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کئی اسکے دلچسپ پہلو ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ کئی جگہ زیر بحث آئے گا کئی جگہ لوگ کہیں