خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد ۳ 448 خطبه جمعه ۷ اراگست ۱۹۸۴ء گے دیکھو جی شریعت کی عدالت نے فیصلہ دے دیا اس لئے احمدیوں کے علم میں ہونا چاہئے۔کچھ تو یہ پس منظر معلوم ہونا چاہیے کہ کس حیثیت سے ان کے پاس گئے تھے اور ان کو بتایا گیا تھا کہ تمہاری ہم کیا حیثیت سمجھتے ہیں اور مقصد کیا تھا اور جہاں تک بنیادی بحث کا تعلق ہے وہ تو کوئی لمبی چوڑی بحث ہی نہیں ہے۔بے وجہ چونکہ مخالف غلط میدانوں میں گھیسٹتا رہا اس لئے ان لوگوں کو بھی مجبور اوہاں جا کر بھی ان کو غلط ثابت کر نا پڑا مگر جو بنیادی بحث ہے وہ زیادہ لمبی ہے ہی نہیں۔مختصر دو تین امور سے تعلق رکھتی ہے اور وہ احمدیوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینے چاہئیں۔پہلی بنیادی بحث یہ ہے کہ کیا قرآن کریم یا سنت نبوی اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ کسی شخص کی طرف وہ مذہب منسوب کیا جائے جو وہ خود تسلیم نہیں کرتا؟ مثلاً کوئی شخص کہتا ہو میں مشرک نہیں ہوں اور قرآن اجازت دے اور آنحضرت ﷺ نے ایسا عمل کر کے دکھایا ہو کہ تم کہتے تو ہو کہ میں مشرک نہیں ہوں لیکن تم ہو مشرک ! تم کہتے تو ہو کہ میں عیسائی ہوں مگر تم عیسائی نہیں ہو یعنی دونوں قسم کی صورتیں کیا قرآن کریم سے کہیں ثابت ہیں اور سنت نبوی سے اس کی کوئی مثال ہے؟ یہ بنیادی چیز ہے۔اگر اس کی ایک بھی مثال نہیں اور قرآن کریم کی کوئی آیت بھی کسی انسان کو یہ حق نہیں دیتی کہ کسی کے مذہب کے ادعا کے خلاف اس کی طرف کوئی مذہب منسوب کر دے تو اگلی بحثیں ہی ساری بے معنی ہیں، بے تعلق باتیں ہو جاتی ہیں۔دوسری بحث یہ نہیں ہے کہ غیر مسلموں کے حقوق کیا ہیں اسلام کے نزدیک؟ یہ بھی عملاً یہاں ہمارے معاملے میں بے تعلق ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کسی غیر مسلم کو قرآن کریم کو سچا سمجھنے کا حق ہے کہ نہیں ؟ اور خدا کو ایک سمجھنے کا حق ہے کہ نہیں ؟ اور آنحضرت ﷺ کی سچائی کا اعلان کرنے کا حق ہے کہ نہیں؟ یہ بنیادی بحث ہے۔اگر نہیں ہے تو تم یہ تبلیغ کیا کرتے پھر رہے ہیں غیر مسلموں کو ان کو تو حق ہی نہیں ہے کہ اسلام کو سچا سمجھیں اور اگر یہ حق ہے تو کیا اکٹھا حق ہے کہ ایک دم سارے اسلام کو سچا سمجھیں یا یہ بھی حق ہے کہ جتنا سمجھ میں آتا ہے وہ مانتے چلے جائیں۔اگر یہ حق نہیں ہے تو پھر یہ شکل بنے گی کہ اگر وہ بحث کے دوران یہ مان جائیں کہ خدا ایک ہے تو آپ کہیں گے نہیں ! ہرگز تمہیں ہم یہ حق نہیں دیتے کہ خدا کی وحدت کا اعلان کرو کیونکہ تم نے باقی باتیں نہیں مانیں۔اگر اس کے دماغ میں یہ بات پڑ جائے کہ اللہ بھی ایک ہے اور حضرت محمد مصطفی میت یہ بھی ایک ہیں لیکن حشر نشر کی سمجھ نہیں