خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 444 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 444

خطبات طاہر جلد ۳ 444 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۸۴ء پہلی بات تو یہ بیان کرنی ضروری ہے کہ اس میں جماعت احمد یہ ایک فریق نہیں تھی۔کسی سیح پر بھی جماعت احمد یہ اس مقدمہ کا فریق نہیں بنی۔میں نہیں جانتا کہ غیر مبائعین بحیثیت غیر مبائع جماعت کے فریق بنے ہیں یا نہیں لیکن جماعت احمد یہ بہر حال اس مقدمہ کا کوئی فریق نہیں اس لئے یہ غلط فہمی اگر کسی کو ہو تو وہ دور ہو جانی چاہئے اور نہ ہی جماعت احمد یہ کسی اس نوع کی عدالت میں بطور جماعت احمدیہ کے جاسکتی ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہ ہو۔جہاں تک بعض افراد کا تعلق ہے جو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے کیوں ایسا کیا اور کیوں انہیں میں نے نہیں روکا؟ یہ سوال ہے صرف جس کے متعلق جماعت کو علم ہونا چاہئے۔انہوں نے ایسا اس لئے کیا ان کے ذہن میں جو دلیل تھی وہ یہ تھی کہ تمام دنیا میں حکومت پاکستان یہ پراپیگنڈہ کر رہی ہے کہ جماعت احمدیہ نے اس فیصلے کو قبول کر لیا ہے اور احمدیوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ یہ جو کچھ بھی فیصلہ ہوا ہے یہ درست ہے اور ہم اسی کے مطابق عمل کریں گے یعنی دل سے گویا ہمیں تسلیم ہو گیا ہے۔تو اگر کچھ احمدی مقدمہ کر دیں ان کی شرعی عدالت میں یعنی مبینہ طور پر شرعی عدالت میں اور پوری طرح اس معاملہ کو کھنگالیں تو فائدہ اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ اول تو یہ الزام خود بخود دنیا کی نظر میں گر جائے گا اور بے معنی ہو جائے گا۔دوسرے جماعت کی طرف سے جو دلائل پیش کئے جائیں گے وہ اتنے قومی اور واضح ہوں گے کہ اگر عدالت نے خلاف بھی فیصلہ دے دیا جیسا کہ دینا ہے تو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا جو لوگ پڑھیں گے ان کے لئے بہتوں کے لئے ہدایت کا موجب ہو جائے اور جو لوگ کا روائی سنیں گے اور روزانہ اخبارات میں شائع ہوگی ان کو ایک بہت فائدہ پہنچے گا بلکہ ایسے ملک میں جہاں ایک طرف یہ تبلیغ بند کر رہے ہیں خود ان کی عدالت تبلیغ کرنے کا ایک موقع مہیا کر دے گی کیونکہ وہ سارے امور جو اختلافی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں وہ بیچ میں آنے تو ہیں بہر حال۔چونکہ ان کے اس موقف میں کافی وزن نظر آتا تھا اگر چہ یہ خدشہ بھی تھا کہ وہ اس کا روائی کو اسی طرح چھپا جائیں جس طرح اس سے پہلے نیشنل اسمبلی کی کاروائی کو آج تک بصیغہ راز رکھا گیا ہے اور اس فائدہ سے جماعت محروم رہ جائے جو ان نو جوانوں کے ذہن میں تھا جنہوں نے مقدمہ میں حصہ لیا ہے لیکن چونکہ یہ بھی امکان تھا کہ عدالت ہے اور اسمبلی نہیں ہے ہو سکتا ہے اس کو وہ کھلم کھلا منعقد کریں کیونکہ کسی جرم کی عدالت تو نہیں ہے یہ تو