خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 440

خطبات طاہر جلد ۳ 440 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۸۴ء منٹوں میں وہاں ربوہ والوں کا اتنا ہجوم ہو گیا کہ وہاں سے گزرنا مشکل ہورہا تھا اور ہر ایک آگے بڑھ کر ان دونوں کو گلے مل رہا تھا اور وہ دونوں مسکرا مسکرا کر سب کو تسلیاں دے رہے تھے یعنی دنیا میں تو الٹ ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ قید ہوتے ہیں باہر والے آکر ان کو تسلیاں دیتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں قید ہونے والوں کا عجیب حال ہے کہ باہر والے بے قرار اور بے چین ہیں اور وہ ان کو تسلیاں دے رہیں ہیں۔ تسلی کے سلسلہ میں ایک آپ کو لطیفہ بھی سنا دوں ۔ ایک بچی نے مجھے یہ لکھا ہے کہ آپ جماعت کی بالکل فکر نہ کریں اگر یہ جماعت آپ کو پیاری لگتی ہے تو اللہ کو بھی تو پیاری لگتی ہے وہ خود اس کی فکر کرے گا جو اللہ کو پیاری لگتی ہے مجھے اور پیاری کیوں نہ لگے؟ پھر یہ عجیب بات ہے اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ا سے ہم نے سبق سیکھتے ہیں۔ آنحضرت یہ تو دشمن کے غم سے بھی اتنا درد محسوس عروسہ صلى الله فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو خود یہ کہنا پڑا کہ صلى الله لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ( الشعر (الشعراء: ۴) کہ اے محمد ﷺ تو ان ظالموں کے لئے اپنے آپ کو غم میں ہلاک کر لے گا جو ایمان نہیں لاتے ! تو ہم نے تو حضور اکرم ﷺ سے ڈھنگ سیکھنے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس بچی کے ذہن میں وہ ابرہہ والا واقعہ رہ گیا ہے جب غالبا عبد المطلب کی بات ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ مجھے اپنے اونٹوں کی فکر ہے کیونکہ میں اونٹوں کا مالک ہوں رب الکعبہ کو کعبہ کی فکر ہو گی کیونکہ وہ کعبہ کا مالک ہے یہ عبدالمطلب کے منہ سے تو بات بجتی ہے لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کبھی یہ نمونہ نہیں دکھایا۔ جو رب کعبہ کا تھا وہ آپ کا بھی تھا۔ جو رب کعبہ کو عزیز تھا وہ آپ کو بھی عزیز تھا اس لئے جو محمد مصطفیٰ ﷺ کا اسوہ ہے ہم نے تو اس کو اپنانا ہے، ہمیں اس سے کیا غرض کہ عبدالمطلب نے کیا جواب دیا تھا۔ ایک شیخو پورہ کے دوست اپنی بچی کا حال لکھتے ہیں یہ وہی آنسو ہیں جو دلوں میں ایک توانائی پیدا کرنے والے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں بھی مسجد مبارک پہنچا جس دن آپ آخری رات وہاں دوستوں کو خطاب کر رہے تھے اس رات کی بات ہے۔ یہ دوسری جگہ سے چل کر آئے تھے انہوں نے کہا میں نے اپنے دو بچے ساتھ لئے اس ارادہ سے کہ وہاں جا کر اپنے آپ کو اپنے بچوں کو شہادت کے لئے پیش کر دوں اور چونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ آپ کی ذات کو خطرہ ہے اس لئے یہ تمنا لے کر چلے تھے کہ ہماری لاشوں پر سے گزر کے دشمن آپ تک پہنچے ورنہ آپ تک نہ پہنچ سکے۔ جب ہم چلنے لگے تو ۔