خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 437

خطبات طاہر جلد۳ 437 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء ہے اس طرح یہ اللہ کا قانون ہے کہ نیکیاں اور نیکیاں پیدا کرتی چلی جاتی ہیں تو یہ بہت بڑا ایک احسان ہے کہ جماعت کے اندر نیکیاں پھل پھول رہی ہیں۔میں جو کہتا ہوں کہ خدا نے ابھی سے ہمیں بہت انعام دینے شروع کر دیئے ہیں یہ کم انعام تو نہیں ہیں کسی جماعت کے اندر عظیم الشان روحانی اقدار جاگ اٹھیں اس کے اندر نیکیاں نشو نما پانے لگ جائیں اور کثرت کے ساتھ نیکیاں بچے دینے لگیں اور ایک نیکی دوسری نیکی پر منتج ہو۔یہ جو سلسلہ ہے یہ بہت ہی عظیم الشان خدا کا احسان ہے۔جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو بعض دفعہ خط لکھتے وقت کچھ بے صبری دکھا جاتے ہیں ان کے لئے اب میں چند باتیں کہنی چاہتا ہوں۔بعض مجھے لکھتے ہیں کہ اب تو روتے روتے ہمارا برا حال ہو گیا ہے اور خدا کیوں مدد کو نہیں آرہا ابھی تک۔کب تک آخر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گالیاں سنیں گے اور دل آزاری کی باتیں سنیں گے ؟ خصوصاً اہل ربوہ کے اوپر چونکہ زیادہ سخت امتحان ہیں اس لئے بعض لوگ وہاں سے جو خط لکھتے ہیں اس میں بے انتہا بے قراری پائی جاتی ہے کیونکہ ایک طرف احمدیوں کی اذانیں بند ہیں، خدا کا نام لینا بند ہے اور دوسری طرف علما کو وہاں لاؤڈ سپیکر پر گالیاں دینے کی کھلی چھٹی ہے اور بعض دفعہ وہ سارا سارا دن انتہائی مغلظات بکتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف تو یہ دکھ ہے جو بے قرار کر دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم روتے ہیں ساری ساری رات گریہ وزاری کرتے ہیں لیکن آخر کب تک ہم سے یہو گا ؟ خدا کیوں ہماری مدد کو نہیں آرہا؟ تو در اصل ان کو بھی اُسی آیت کی طرف متوجہ ہونا چاہئے جس کا میں نے ذکر کیا تھاما استَكَانُوا کی کیفیت اپنے اندر پیدا کریں ،آنسو بہت ضروری ہیں لیکن حو صلے کو نرم کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اس طرح استعمال ہونے چاہئیں جس طرح بھٹی میں چپ لو ہا ڈالا جاتا ہے تو اسے بار بار نکال کر پانی میں اس لئے داخل کیا جاتا ہے کہ اس سے اس پر آب مزید آجائے اگر صرف بھٹی جلتی رہے تو لو ہے خواہ کتنے ہی سخت ہوں اپنے ذات کے لحاظ سے وہ کچھ دیر کے بعد نرم ہو کر پکھل جاتے ہیں لیکن اگر بار بار ان کو پانی میں ڈبویا جائے تو بجائے نرمی آنے کے ان میں اور زیادہ بختی آنی شروع ہو جاتی ہے یہی قانون ہے انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ، یہی سلوک ہے انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا چنانچہ ایک طرف دشمن ان کو بھٹی میں جلانے کی کوشش کرتا ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے انکو رحمت کے آنسو عطا کرتا ہے، وہ خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں، ایک دوسرے کے غم میں بے انتہا درد محسوس کرتے ہوئے ان کی