خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 38

خطبات طاہر جلد ۳ 38 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء لَهُ مُعَقِّبُتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُوْنَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ (الرعد :۱۲) اس میں حفاظت کے دوسرے معانی کے علاوہ ایک یہ معنی بھی ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود اس نے ایسے کارندے مقرر کر رکھے ہیں جو بنی نوع انسان کے عیوب کو غیروں پر ظاہر ہونے سے روکتے رہتے ہیں اور بالا رادہ ملائکہ بھی اس بات پر مقرر ہیں اور قانون قدرت بھی اس بات پر مقرر ہے کہ انسان کے عیوب کو غیروں سے چھپاتا ہے اور اگر اس پہلو سے انسان اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرے تو دنیا دار جن باتوں کو اتفاق سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم اتفاق سے بچ گئے یا اپنی چالاکی سے بچ گئے ، ایک عارف باللہ کوکھلم کھلا نظر آجاتا ہے کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی ستاری تھی کہ اس نے میرے اوپر پردے ڈھانپ دیئے یعنی میرے عیبوں کو غیروں کی نظر سے بچالیا ورنہ میری حماقتیں، میری غفلتیں ایسی تھیں کہ اس کے نتیجہ میں دنیا پر میرے عیب ظاہر ہوتے تو بعید نہ تھا۔یہ محض ستاری ہے اور بالا رادہ ستاری ہے، کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے، ایک تصرف الہی ہے جس کے نتیجہ میں میرے عیب غیروں سے ڈھانپے گئے ، اس کو کہتے ہیں ستاری۔تو عفو کا ایک طبعی نتیجہ ہے ستاری۔اور اللہ تعالیٰ اس طرح ستاری فرماتا ہے کہ ایک تو قانون قدرت ہے جو از خود جاری و ساری ہے چنانچہ بعض Transparent یعنی شفاف چیزیں اس نے پیدا کیں جن سے نظر آر پار ہو جاتی ہیں اور بعض ایسی ٹھوس چیزیں ہوتی ہیں جن سے نظریں گزر نہیں سکتی اور انسان طبعا از خودان چیزوں کو جن سے نظریں آر پار ہو جاتی ہیں نمائش کے لئے استعمال کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی اچھی چیزیں رکھتا ہے وہاں آگے شیشے کے Cover لگا دیتا ہے جس طرح یورپ میں یا پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی دکانیں بھی ہوئی ہوتی ہیں وہاں شیشہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن جہاں گند ہوتے ہیں وہاں ایسی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں جن سے نظر آر پار نہ جائے۔اگر خدا ہر چیز شفاف بنادیتا تو کچھ بھی بعید نہ تھا اور یہ اس کے قبضہ قدرت میں تھا لیکن پھر انسان کے اتنے عیب ایک دوسرے پر ظاہر ہوتے کہ ساری دنیا شیشے کی دیواریں بن جاتی۔پھر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر فرمایا ہے دن ہے اور رات ہے۔راتیں بہت سے عیب چھپا دیتی ہیں۔اندھیرا جہاں ایک منفی طاقت ہے وہاں اس لحاظ سے ایک مثبت چیز بن جاتا