خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد ۳ 433 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء یہی حال ہے کوئی ایک کا ذکر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی دوسرا قربانی میں پیچھے ہے۔صرف نمونۂ جماعت کے سامنے لانے کے لئے بعضوں کو میں نے چنا ہے، کہتے ہیں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد سیدھا مربی ہاؤس گیا فوڑا بیوی سے ملا اور اس کی طرف دیکھتا رہ گیا کیونکہ میں اس امید کے ساتھ گیا تھا کہ میرے جانے سے قبل میری بیوی اپناز یورا تار چکی ہوگی جاتے ہی مجھے کہے گی کہ یہ تو اسے حضور کی خدمت میں پیش کر دو۔میں نے جب اس کے بدن پر زیور دیکھا تو میں نے اس سے کہا کہ میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں میں تو اس امید سے آیا تھا کہ تم سارا زیور اتار چکی ہوگی اس پر اس نے کلائی میری طرف بڑھائی اور کہنے لگی کہ خودا تار واور کہنے گی خدا کی قسم میں تو یہ زیور اس وقت سے وقف کر چکی ہوں جب حضور نے تحریک فرمائی تھی اور انتظار کر رہی تھی کہ کب ہمیں بھی اجازت ہو اس تحریک میں شامل ہونے کی لو اسے اتارواب میں اسے نہیں پہن سکتی۔کہنے لگی کچھ زیور میرا فلاں گھر پڑا ہے وہاں سے منگوا لو ،ایک ہلکا سالاکٹ اور بالیاں کانوں میں دیکھیں تو میں نے کہا یہ کیوں نہیں اتار رہی تو اس نے جواب دیا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ کچھ اپنے بچوں کے لئے بھی رکھو میں محض خدا کی ناراضگی کے خوف سے یہ نہیں اتارتی کہ نافرمانی نہ ہو جائے لیکن جو ہلکا زیور ہے وہ اپنے بچوں کے لئے رکھ لیا ہے اور جو کچھ بھاری زیور تھا وہ خدا کی راہ میں پیش کر دیا ہے۔ایک پرانے خادم سلسلہ جو اکثر زندگی کا حصہ کلرک کے طور پر گزارتے رہے اور ابھی بھی کلرک کی اوپر کی سطح کے آدمی ہیں وہ یہ لکھتے ہیں۔اس وقت دل میں اپنے مولا کے ساتھ آپ کی تحریک میں مبلغ تیرہ ہزار روپے 313,000 Rs ) جو میری ساری عمر کی کوڑی کوڑی پس انداز کی ہوئی رقم ہے دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔میری یہ پس خوردہ رقم حاضر ہے جس مرکز کے لئے چاہیں خرچ کریں اور مجھے جمع کروانے کا ارشاد فرما ئیں۔اللہ تعالیٰ میری یہ حقیر قربانی قبول فرمائے آئندہ بھی محض اپنے فضل سے مزید قربانیوں کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔یہ پس انداز کی ہوئی رقم کچھ رقم تو بچیوں کے وظیفوں کی تھی کچھ تھوڑی تھوڑی اپنی بچت اور کچھ بڑے بچے کی دی ہوئی امداد یہ سب اس لئے اکھٹی کر رہا تھا کہ دو بڑی بچیاں جن کا نکاح جلسہ پر ہوا تھا ان کا رخصتانہ کرنا باقی ہے بہر حال اللہ تعالیٰ ان بچیوں کے رخصتانے کا انتظام تو خود فرمادے گالیکن یہ حیرت انگیز قربانیاں تو ایسی نہیں ہیں جو خدا والوں کے سوا کوئی اس دنیا میں پیش کر سکے۔احمدیت تو یوں لگتا ہے ساری دنیا سے مختلف ایک اور قوم بن کر ابھری ہے اس زمانے میں ، اس دنیا کے لوگ ہی یہ نہیں نظر آتے۔اگر خدا نے ہمیں نہ بتایا ہوتا اتنا پیارا پیارا محاورہ ربیون تو ہم نہیں کہہ