خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد ۳ 432 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء پھر بھی غریب چونکہ اس سطح پر اپنی اقتصادی لحاظ سے اس ادنی سطح پر واقع ہوتا ہے کہ جب وہ قربانی دیتا ہے تو اسے بھوک کی شدت بھی برداشت کرنی پڑتی ہے، اسے دوسری تنگیاں بھی اٹھانی پڑتی ہیں اس لئے اس پہلو سے وہ یقیناً امرا پر فضیلت لے جاتا ہے اور بعض لوگ کچھ بھی پیش نہیں کر سکتے سوائے رونے کے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کے وہ آنسو ہیں جو خدا کی نظر میں موتیوں سے بڑھ کر قیمتی ہو جاتے ہونگے۔چنانچہ ایک صاحب اس سلسلہ میں مجھے لکھتے ہیں کہ آپ نے جو نئے مشن کی تحریک فرمائی اس کی کیسٹ گھر میں سن رہے تھے میری بچیاں بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔جب آپ نے یہ فرمایا کہ فلاں بچی نے یہ زیور دیا اور فلاں بچی نے یہ روپیہ دیا تو یہ آواز سن کر اس عاجز کی بچیاں آنکھوں سے آنسو بہا کر پکار اُٹھیں کہ کاش ہمارے پاس بھی زیور یا روپیہ ہوتا تو حضور کے قدموں میں رکھ دیتیں اس وقت تو قرضہ کا بوجھ اس قدر ہے کہ یہ خط لکھتے وقت اپنی بچیوں کا وقت یاد آ گیا اور میری آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہیں۔تو یہ وہ جماعت ہے جس کا رد عمل ان مصیبتوں اور دکھوں کے وقت اللہ کی راہ میں اور بھی زیادہ قربانیاں دینے کی تمنا کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔بچوں کے متعلق ایک دوست لکھتے ہیں کہ میرے بچوں نے جو پیسے ان کے پاس تھے کہا کہ امی ہم نے یہ رقم دینی ہے۔میری ایک بچی جس کی کراچی سے روانہ ہوتے وقت آخری دن آپ کی ملاقات ہوئی تھی اور آپ نے از راہ شفقت اس کو قلم دیا تھا اس نے اپنے جیب خرچ میں سے اپنے گلہ میں یعنی وہ مٹی کا برتن جس میں پیسے جمع کرتے ہیں بچے جو کچھ بھی جمع کیا ہوا تھاوہ سارا اس نے پیش کر دیا۔ایک بچہ جو بڑی عمر کا ہے نسبتا اس نے موٹر سائیکل کے شوق میں پیسے جمع کئے ہوئے تھے اور اب تک اس کے پاس 2100 روپے جمع ہو چکے تھے۔اس نے مجھے لا کر دیئے کہ ابا میں بالکل موٹر سائیکل نہیں لینا چاہتا، مجھے کوئی شوق نہیں رہا اس لئے یہ ساری رقم یورپ کے ان مراکز کے چندے میں پیش کر دیں اور میری طرف سے درخواست کریں کہ مولا! ہماری یہ حقیر قربانی قبول فرمائے۔ایک بچی لکھتی ہے، ہمارے ایک مبلغ کی بچی ہے، کہ میں نے تین سال کے عرصہ میں جیب خرچ اور عیدی کی ساری جمع شدہ رقم کا گلہ مشنری انچارج (Missionary Incharge ) یعنی اپنے ابا کے سپرد کر دیا ہے۔جو پانچ صد شلنگ بنتے ہیں اس رقم کو قبول فرمائیں۔ایک مربی سلسلہ اطلاع کرتے ہیں اور جتنے بھی خدا کے فضل سے مربیان سلسلہ ہیں ان سب کا