خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 431
خطبات طاہر جلد ۳ 431 خطبه جمعه ار ا گست ۱۹۸۴ء بہت بڑھ کر حُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ ہمیں عطا فرمائے گا۔اس انتہائی خوفناک مخالفت اور دردناک مظالم کے نتیجے میں جماعت کا رد عمل بالکل وہی ہے جو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔قربانی کی روح پہلے سے کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہے۔جتنا دشمن ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے، دبانے کی کوشش کر رہا ہے اسی قوت کے ساتھ جماعت کا دفاع کا جذبہ ابھرتا چلا جا رہا ہے۔حوصلے بڑھ رہے ہیں، ہمت میں ایک مزید قوت عطا ہورہی ہے۔دن بدن جماعت کی کیفیت بدلتی چلی جارہی ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ ان آیات کی مصداق آج دنیا میں جماعت احمدیہ کے سوا اور کوئی جماعت نہیں۔چنانچہ جب خطرات ہوں اور کئی قسم کے ایسے دہشت ناک واقعات ہو رہے ہوں کہ جس سے انسان کو یہ محسوس ہو کہ کچھ نہ کچھ پس انداز کر کے بچانا چاہئے پتہ نہیں کیا حالات ہوتے ہیں، کس طرح ہمیں گھروں سے نکالا جائے؟ کس طرح ہم لوٹائے جائیں؟ تو ایسے وقت میں دنیا کی قوموں میں یہ ردعمل ہوتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ سمیٹتے ہیں اور بچالیتے ہیں لیکن اللہ کی قوم کا رد عمل یہ ہے کہ جو کچھ گھر میں تھا وہ سمیٹ سمیٹ کر جھاڑو دے دے کر خدا کے حضور پیش کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ رد عمل خدا والوں کی علامت ہے۔ان لوگوں کو ر بتون کہا جاتا ہے قرآنی اصطلاح میں کہ اللہ والے لوگ رب والے لوگ۔چنانچہ یہ جو مختلف وقتوں میں جماعت کی طرف سے قربانی کی اطلاعیں آرہی ہیں اور مختلف ممالک سے یہ اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ ناممکن ہے انہیں ایک دو خطبات میں بیان کیا جا سکے بلکہ ہزار ہا صفحات کی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔میں نے بعض قربانیوں کا ذکر گزشتہ ایک خطبہ میں کیا تھا لیکن اس کے بعد بعض ایسے غربا کی بعض بچوں کی ، بعض کمزور لوگوں کی ایسی عظیم الشان قربانیوں کی اطلاعیں ملی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو بھی اس ذکر میں شامل کرنا ضروری ہے کیونکہ جماعت کے امیر بھی جس طرح قربانی کر رہے ہیں اسی طرح جماعت کے غریب بھی قربانیاں کر رہے ہیں اور جماعت کے غربا کی بعض صورتوں میں قربانیاں اتنی عظیم الشان ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ یہ قربانیاں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں خدا کی نظر میں یا امرا کی قربانیاں۔آج تو یہ کیفیت نظر آتی ہے کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز امیر اور غریب اپنی قربانیوں میں بالکل ایک صف میں کھڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں مگر