خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد ۳ 430 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء ثَوَابِ الْآخِرَةِ ثَوَابِ الدُّنْیا کے متعلق تو کوئی کہ سکتا تھا کہ ماضی کا قصہ چل رہا ہے اس لئے ماضی میں ذکر ہونا تھا مگر ثَوَابِ الْآخِرَةِ تو بعد کی بات ہے وہ تو مرنے کے بعد ہوتا ہے اس کے لئے بھی لفظ ماضی استعمال فرمایا یقینی بنانے کے لئے۔اس بات کو سو فیصدی یقینی کرنے کے لئے ماضی کا طریق اختیار کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کی دوسری جگہ بھی یہی ادا ہے یہی اسلوب ہے کہ جب بات میں قوت پیدا کرنی ہو اور یقینی بنانا ہو تو مستقبل کے واقعات کو بھی ماضی کے صیغہ سے بیان کیا جاتا ہے۔وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔یہاں دو جزا ئیں بیان نہیں ہوئیں بلکہ تین ہوئی ہیں۔ثَوَابَ الدُّنْیا پہلی جزا کہ اس دنیا میں بھی وہ ذلیل نہیں ہوں گے ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی انہیں کو فتح نصیب ہوگی۔وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ دنیا تو عارضی چیز ہے آخرت کا ثواب اس سے بہت زیادہ حسین ہے جو آخرت میں جزا ملنے والی ہے اس کا اس کے ساتھ اس دنیا کی جزا کا کوئی مقابلہ ہی نہیں لیکن سب سے بڑی جزا یہ ہے وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ کہ اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا تم اللہ کے پیاروں میں شمار ہو جاؤ گے۔یہ جو کیفیات ہیں یہ دنیا والوں کے لئے تو تاریخی واقعات ہیں اگر عام مسلمان جو احمدی نہیں ہے ان باتوں پر غور کرتا ہے تو اس کی نظر آنحضرت عیہ کی طرف لوٹ جاتی ہے اور آپ کے زمانے کے لوگوں کی طرف جو حضور اکرم ﷺ کو نہیں مانتا وہ اگر اس مضمون پہ غور کرے گا عیسائی ہوگا تو حضرت عیسی کے زمانے کی طرف چلا جائے گا ، اگر یہودی ہوگا تو حضرت موسیٰ“ کے زمانے کی طرف اس کا ذہن چلا جائے گا اگر کسی اور مذہب کا ہے اور ابراہیمی ہے تو حضرت ابراہیم کے زمانے کی طرف اس کی نظر لوٹ جائے گی۔گویا سارے کے سارے ان کے ذہن یقینی واقعات کی طرف منتقل ہوتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود یہ سارے ماضی میں بسنے والے لوگ ہیں حال میں ان کو ایسے کوئی واقعات دکھائی نہیں دیتے۔یہ جماعت احمدیہ کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارا ماضی ہمارا حال بن گیا ہے اور وہ خوشخبریاں جو پہلوں کو عطا ہوگئی تھیں وہ ہمارا مستقبل بن گئی ہیں۔اب ہم قصہ پارینہ میں بسنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ زندہ قوم ہیں جن کے اوپر یہ ساری واردات گزر رہی ہیں ہم شاہد ہیں اس بات کے اور اس بات کے بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے فضل لے کر آیا کرتا تھا اور آج بھی آرہا ہے اور کل بھی ہم پہلے سے