خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 425
خطبات طاہر جلد ۳ 425 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء امن کا دور آیا تھا لیکن کلیۂ امن کا وہ بھی نہیں تھا۔کیونکہ بعض غزوے اس کے بعد ہوئے اور ہر طرف سے بے اطمینانی کی خبریں بھی ملتی تھیں تو اسوہ رسول کو اگر آپ سختی سے پکڑ لیں یعنی بڑی مضبوطی کے ساتھ اس پر کار بند ہو جائیں تو پھر آپ کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکے گا۔ہم میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے جو بچارے فتح کی تمنالئے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے مگر مرتے وقت ان کو راضی برضار ہنا چاہئے اور ان کی ان نیکیوں کے بدلے ان کی ان بھلائیوں کے صدقے ایسی نسلیں آنے والی ہیں جو فتح میں آنکھیں کھولیں گی اور وہ سوچ بھی نہیں سکیں گی کہ ہمارے ماں باپ نے کیسی کیسی دردناک قربانیاں دی تھیں اس فتح کے لئے۔اس لئے یہ تو بہر حال ہوگا کہ جس شخص نے قرآن پر ہاتھ ڈالا ہے وہ لاز م ہاتھ کاٹا جائے گا۔جس نے محمد مصطفی عدلیہ کے فیض کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے اس کے فیض کے چشمے سوکھیں گے محمد رسول اللہ ہی ہے کے فیض کے چشمے کو کوئی سکھا ہی نہیں سکتا اس لئے لازماً ان کے مقدر میں حسرت ناک شکست ہے اس کے سوا کچھ نہیں یہ یقین آپ رکھیں کیونکہ اس کے لئے ساری تاریخ ہمیں بتا رہی ہے کہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ایسا ہی ہوگا۔ہاں چند آدمی بچارے جو پہلے وفات پا جائیں یا ان کے دکھوں کی تاب نہ لاکر جانیں دے دیں ان کا معاملہ ان کے خدا کے ساتھ ہے۔میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ایک سانس بھی مرتے وقت احمدی کا ناشکری کا نہیں ہونا چاہئے۔راضی برضا ر ہتے ہوئے ہنستے ہوئے اپنے رب سے مخاطب کرتے ہوئے جان دے کہ اے خدا ! میں تیرے بندوں کی طرح رہا تیرے بندوں کی طرح جان دے رہا ہوں تو مجھے اپنے بندوں میں لکھ لے اور آج مجھ سے وہ پیار کا سلوک فرما جس کا تو نے قرآن میں وعدہ دیا تھا کہ اے میرے بندو تم نے بندگی کا حق ادا کردیا۔فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر ۳۰۔۳۱) آؤ میرے بندوں کی جنت میں داخل ہو جاؤ جو میری جنت ہے۔